غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے انتظامی معاملات چلانے والی نیشنل کمیٹی نے غزہ کی پٹی میں ایک نئے فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے بھرتیوں کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اس قدم کا مقصد آئندہ عبوری مرحلے کے دوران امن و عامہ کا قیام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے تاکہ داخلی صورتحال میں استحکام اور سول سوسائٹی میں امن کو فروغ دیا جا سکے۔
کمیٹی نے ایک سرکاری بیان میں اہل اور دیانت دار مرد و خواتین کو اپنی درخواستیں جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ مجوزہ فورس خاندانوں کے تحفظ اور انسانی وقار کی پاسبانی کی ذمہ دار ہوگی اور اس کی توجہ غزہ کی پٹی کو درپیش سکیورٹی و معیشت کے چیلنجز کے سائے میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے پر مرکوز رہے گی۔
کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارے کی تعمیر کا عمل شفافیت اور قانونی جوابدہی کے واضح معیارات پر مبنی ہوگا اور تمام اہلکاروں کو پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق اور مسلسل نگرانی کے سخت نظام کے تابع رکھا جائے گا تاکہ غزہ کے شہریوں کے ساتھ برتاؤ میں عدل و مساوات کے اصولوں کو تقویت ملے۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ اس پولیس فورس کا حصہ بننا ایک قومی ذمہ داری ہے جو سماجی اعتماد کی بحالی اور امن کے احساس کو پختہ کرنے میں براہ راست معاون ثابت ہوگی۔
اگرچہ کمیٹی نے ان پولیس اہلکاروں کی تقدیر کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی جو اس وقت فرائض سرانجام دے رہے ہیں، تاہم اس نے ان پولیس اہلکاروں کی لگن اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، جبری نقل مکانی اور غیر معمولی مشکل حالات کے باوجود اپنے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔
غزہ کی پٹی کے انتظامی معاملات کی یہ نیشنل کمیٹی امریکی صدر بنجمن نیتن یاھو کے اتحادی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے وابستہ مفاہمتوں کے تحت تشکیل دی گئی ہے تاکہ غزہ میں سول معاملات کو چلایا جا سکے۔ علی شعث کی سربراہی میں قائم یہ کمیٹی 11 فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہے اور اس کی ذمہ داریوں کا محور سیاسی کشمکش سے دور رہ کر شہریوں کو روزمرہ کی خدمات فراہم کرنا اور ان کے معاملات کو منظم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی جانب سے سول انتظامیہ کے معاملات کمیٹی کے سپرد کرنے کے لیے انتظامی و لاجسٹک طور پر مکمل آمادگی کے اعلان کے باوجود مذکورہ کمیٹی گذشتہ جنوری کے وسط سے ہی مصری دارالحکومت قاہرہ سے اپنے امور چلا رہی ہے۔ اس نے تاحال غزہ کے اندر زمینی سطح پر اپنی سرگرمیاں شروع نہیں کی ہیں جبکہ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کمیٹی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے فوری طور پر پٹی کے اندر پہنچے۔
کمیٹی کے اراکین کی غزہ میں آمد کا معاملہ قابض اسرائیلی حکام کے کنٹرول میں موجود گزرگاہوں پر پیچیدہ سکیورٹی اور فیلڈ کوآرڈینیشن سے جڑا ہوا ہے، جبکہ کمیٹی نے اپنے حالیہ بیان میں ان وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی جو اس کے عملے کو غزہ پہنچنے اور اعلانیہ فرائض شروع کرنے سے روک رہی ہیں۔
