غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کی جانب سے حاصل کردہ دستاویزات اور معاہدوں کے خاکوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جنوبی غزہ کی پٹی میں ایک بہت بڑا فوجی اڈہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ اڈہ تقریباً 1500 دونم سے زائد رقبے پر محیط ہوگا جس میں پانچ ہزار اہلکاروں کی گنجائش موجود ہوگی۔
دستاویزات کے مطابق اس اڈے کو ‘انٹرنیشنل اسٹیبلٹی فورس’ (عالمی استحکام فورس) کے آپریشنز سینٹر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ فورس غزہ کی پٹی کے مستقبل سے متعلق امریکی منصوبے کے تحت تشکیل دی جانی ہے اور اس کی نگرانی ‘امن کونسل’ نامی ادارہ کرے گا، جس کا پہلا اجلاس آج جمعرات کو واشنکٹن میں منعقد ہو رہا ہے۔
منصوبے کے مطابق یہ منصوبہ مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت اس سائٹ کی حتمی لمبائی 1400 میٹر اور چوڑائی 1100 میٹر ہوگی۔ اس پورے رقبے کو خاردار تاروں سے گھیرا جائے گا اور اس کے گرد 26 بکتر بند واچ ٹاورز نصب کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ یہاں چھوٹے ہتھیاروں کے لیے فائرنگ رینج، محفوظ پناہ گاہیں اور آپریشنز کے لیے مخصوص فوجی سامان کے اسٹورز بھی بنائے جائیں گے۔
دستاویزات کے مطابق فوجی پناہ گاہوں کا ایک نیٹ ورک تیار کیا جائے گا جس میں ہر شیلٹر 6 میٹر لمبا، 4 میٹر چوڑا اور 2.5 میٹر اونچا ہوگا، جو آپریشنز کے دوران فوجیوں کے تحفظ کے لیے جدید ترین وینٹی لیشن سسٹم سے لیس ہوگا۔
‘دی گارڈین’ کے مطابق مجوزہ مقام غزہ کی پٹی کے جنوب میں ایک بنجر اور ہموار علاقے میں واقع ہے، جہاں گذشتہ کئی برسوں سے جاری قابض اسرائیل کی مسلسل بمباری کا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔ اخبار نے اس مقام کی ویڈیو ریکارڈنگز دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
منصوبہ بندی کے عمل سے وابستہ ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ جنگ زدہ علاقوں میں کام کا تجربہ رکھنے والی بین الاقوامی تعمیراتی کمپنیوں نے اس مقام کا فیلڈ سروے بھی مکمل کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس فوجی کمپلیکس کے معاہدے کی دستاویز ‘امن کونسل’ نے فوجی معاہدوں کے ماہر امریکی حکام کی مدد سے جاری کی ہے۔
دستاویز میں ٹھیکیدار کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر مرحلے پر اس جگہ کا جیو فیزیکل سروے کرے تاکہ زمین کے نیچے کسی بھی خالی جگہ، سرنگوں یا بڑے خلا کا پتہ لگایا جا سکے۔ یہ ممکنہ طور پر ان سرنگوں کے نیٹ ورک کی طرف اشارہ ہے جن کے بارے میں قابض اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس نے غزہ میں بنائی ہیں۔
علاوہ ازیں دستاویز میں ‘انسانی باقیات کا پروٹوکول’ کے عنوان سے ایک حصہ شامل ہے، جس کے تحت کسی بھی انسانی باقیات یا ثقافتی آثار ملنے کی صورت میں کام فوری روک کر مقام کو محفوظ کرنے اور نگران ادارے سے ہدایات لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ غزہ کے محکمہ شہری دفاع کا اندازہ ہے کہ تقریباً 8 ہزار فلسطینی اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
ان دستاویزات میں اس زمین کی ملکیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا جس پر یہ اڈہ تعمیر ہونا ہے، جبکہ غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے کا بڑا علاقہ اس وقت قابض اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا تبصرہ کرنے سے انکار
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس فوجی اڈے سے متعلق تمام سوالات ‘امن کونسل’ کی طرف بھیج دیے ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ “جیسا کہ صدر نے کہا ہے، زمین پر کوئی امریکی فوج نہیں ہوگی اور ہم لیک ہونے والی دستاویزات پر بحث نہیں کریں گے۔”
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ‘امن کونسل’ کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس قائم کرنے کا اختیار دے رکھا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی سرحدوں کی حفاظت، داخلی سلامتی برقرار رکھنے، شہریوں کے تحفظ اور “زیرِ نگرانی” فلسطینی پولیس فورس کی تربیت و مدد کی ذمہ دار ہوگی۔
تاہم اخبار نے اشارہ کیا ہے کہ اگر دوبارہ لڑائی یا قابض اسرائیل کی بمباری شروع ہوتی ہے، یا حماس کے ساتھ تصادم ہوتا ہے تو اس فورس کے ‘رولز آف انگجمنٹ’ (جنگ کے ضوابط) اب بھی مبہم ہیں۔ اسی طرح حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے اس فورس کا کردار واضح نہیں ہے، جبکہ یہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو کے کسی بھی منصوبے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
اگرچہ 20 سے زائد ممالک ‘امن کونسل’ کے رکن بن چکے ہیں، لیکن کئی ممالک نے اس فورس میں شمولیت سے معذرت کر لی ہے۔ اقوام متحدہ کی منظوری سے قائم ہونے والے اس کونسل کا میثاق امریکی صدر کو اس پر مستقل قیادت اور مکمل کنٹرول کا حق دیتا ہے۔