نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں نسلی تطہیر کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ انتباہ قابض اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں، فلسطینی شہریوں کی جبری بے دخلی اور نقل مکانی کے ہولناک واقعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس تسلسل سے غزہ پر حملے کیے جا رہے ہیں، پورے کے پورے محلوں کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے اور انسانی امداد کی رسائی روکی جا رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد غزہ کی پٹی میں مستقل جغرافیائی اور آبادیاتی تبدیلی لانا ہے۔
رپورٹ میں، جو سنہ 2024ء یکم نومبر سے اکتیس اکتوبر سنہ 2025ء تک کے عرصے پر محیط ہے، اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ان سفاکانہ پالیسیوں کا جبری بے دخلی کے ساتھ ملاپ نسلی تطہیر کے مترادف ہے اور یہ خطرہ غزہ اور مغربی کنارے دونوں جگہوں پر یکساں طور پر منڈلا رہا ہے۔
غزہ کی پٹی
غزہ کی پٹی کے حوالے سے رپورٹ میں دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے ہیں کہ قابض اسرائیلی افواج کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام اور انہیں معذور کرنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں قحط کی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے اور شہری انفراسٹرکچر کو اس حد تک تباہ کر دیا گیا ہے کہ اب وہاں انسانی گروہ کے طور پر فلسطینیوں کا رہنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں جان لیوا حملوں کا انداز اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ شہریوں اور سویلین تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، یا ایسے حملے کیے جا رہے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے معلوم ہے کہ ان سے ہونے والا جانی نقصان کسی بھی فوجی مقصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
دستاویزی ثبوتوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں شدید بھوک کی وجہ سے 157 بچوں سمیت کم از کم 463 فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ رپورٹ نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ قحط اور غذائی قلت قابض اسرائیلی حکومت کے ان اقدامات کا براہ راست نتیجہ ہے جن کے تحت امداد روکی گئی اور اس کی تقسیم میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ رپورٹ میں شہریوں کو بطور جنگی ہتھیار بھوکا رکھنے کو جنگی جرم قرار دیا گیا ہے، جو منظم حملوں کی صورت میں انسانیت کے خلاف جرم اور کسی مخصوص گروہ کو مٹانے کی نیت سے کیے جانے پر نسل کشی بھی ہو سکتا ہے۔
مغربی کنارہ
مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی بیت المقدس کے حوالے سے رپورٹ میں قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے غیر قانونی اور منظم استعمال، وسیع پیمانے پر من مانی گرفتاریوں، تشدد، اور فلسطینیوں کے گھروں کی غیر قانونی مسماری کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تمام ہتھکنڈے فلسطینیوں کو دبانے اور ان پر اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے لیے ایک منظم امتیازی پالیسی کے تحت اپنائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کی جانب سے بھی طاقت کے غیر ضروری استعمال کے چند واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس عرصے کے دوران قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں 79 فلسطینیوں کی شہادت کو ریکارڈ کیا ہے اور بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی سے گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو سب سے زیادہ تشدد اور سفاکیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انصاف سے محرومی
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر قابض اسرائیل کو حاصل “استثنیٰ” (سزا سے بچاؤ) کی فضا کو بھی اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عدالتی نظام ان جرائم کے ذمہ داروں کے محاسبے کے لیے کوئی بھی مؤثر قدم اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔
رپورٹ کی سفارشات میں تمام ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان کی فروخت اور منتقلی فوری طور پر بند کریں، کیونکہ یہ سامان مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جرائم کے ارتکاب میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں امریکی منصوبے کے تحت جنگ بندی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے متنبہ کیا گیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی عدم موجودگی زمین پر موجود خطرات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
