Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مغربی کنارے میں رمضان کی پہلی دہشت گردی، فلسطینی عوام پر جارحانہ کارروائیاں

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں قابض اسرائیلی فوج اور شرپسند آبادکاروں کی جانب سے حملوں اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی اور کئی گرفتار کر لیے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران مکانات کی مسماری، توڑ پھوڑ اور املاک کی چوری کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جو کہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی زمین پر غاصبانہ قبضے کے تسلسل کا حصہ ہیں۔

ہلال احمر فلسطین کے مطابق طولکرم کے جنوب میں واقع جبارہ فوجی چوکی کے قریب قابض اسرائیلی فوج کی گولی لگنے سے ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔ اسی طرح خلیل کے جنوب میں واقع شہر دورا پر حملے کے دوران ایک اور شہری زخمی ہوا، جہاں قابض فوج نے براہ راست فائرنگ، صوتی بموں اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور تجارتی مراکز میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔

رام اللہ کے شمال مشرق میں رمون اور دیر دبوان کے قصبوں کے درمیان واقع العراعرہ بدو بستی پر آبادکاروں کے وحشیانہ حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور آبادکار مسلح تھے، جبکہ قابض اسرائیلی فوج نے حملہ آوروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے علاقے پر دھاوا بول دیا۔

بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں الرشایدہ میں آبادکاروں نے فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا جس سے ایک شہری گولی لگنے اور دوسرا تشدد کے باعث زخمی ہو گیا۔ البیرہ کے علاقے الہاشمیہ میں قابض فوج نے ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا، جبکہ سلفیت میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے دوران سابق اسیران کے گھروں کی تلاشی لی گئی اور کئی خاندانوں کو زبردستی گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔

جنین شہر اور اس کے کیمپ میں قابض اسرائیلی فوج نے 15 سے زائد فوجی بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ یلغار کی اور ضلع کے مختلف قصبوں میں گشت کیا، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

گھروں کی مسماری اور معاشی جبر

مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں صور باھر کے مقام پر قابض حکام نے بزرگ احمد خضر کے خاندان کو اپنا گھر خود مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ مسماری بغیر لائسنس تعمیر کے بہانے کی گئی۔

مقبوضہ بیت المقدس گورنری کے مطابق مذکورہ خاندان نے بھاری جرمانے سے بچنے کے لیے خود اپنا گھر گرایا، کیونکہ قابض انتظامیہ کے ذریعے مسماری کی صورت میں انہیں 80 ہزار شیکل (تقریباً 25 ہزار ڈالر) جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔ یہ گھر 80 مربع میٹر پر محیط تھا جس میں تین افراد رہائش پذیر تھے اور اسے سنہ 2016ء کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ اسی طرح بیت لحم کے جنوب مغرب میں واقع قصبہ الخضر میں بھی قابض فوج نے ایک گھر مسمار کر دیا۔

املاک کی لوٹ مار اور تخریب کاری

رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبہ یبرود میں آبادکاروں نے مویشیوں کے باڑوں اور زرعی کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور بھیڑ بکریاں چوری کر لیں۔ اس دوران شہریوں پر فائرنگ بھی کی گئی جس کے بعد قابض اسرائیلی فوج بھی علاقے میں پہنچ گئی۔

واضح رہے کہ سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں اپنی سفاکیت میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا مقصد قتل و غارت، گرفتاریوں اور جبری بے دخلی کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔

فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں اب تک 1114 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 230 بچے شامل ہیں، جبکہ 11 ہزار 500 سے زائد زخمی اور تقریباً 22 ہزار افراد کو گرفتار کر کے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan