Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

اسرائیلی انتباہ کے باوجود مزاحمت ختم نہیں ہوگی: حماس

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے اس نام نہاد مہلت کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جس کا تذکرہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے کیا تھا، جس کے تحت حماس کو اپنا تمام اسلحہ بشمول انفرادی ہتھیار حوالے کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔

الجزیرہ مبشر کے پروگرام “المسائیہ” میں گفتگو کرتے ہوئے محمود مرداوی نے کہا کہ تحریک کو کسی بھی فریق کی جانب سے اس فیصلے کا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو جو غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں عالمی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں – اور میڈیا کے بیانات محض کھوکھلی دھمکیاں ہیں جن کی جاری مذاکرات میں کوئی حقیقت یا بنیاد نہیں ہے۔

اس سے قبل بنجمن نیتن یاھو کے ایک اعلیٰ سطحی مشیر نے گذشتہ روز پیر کو اعلان کیا تھا کہ قابض اسرائیل حماس کو غیر مسلح ہونے کے لیے 60 دن کی مہلت دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو قابض فوج غزہ کی پٹی میں دوبارہ جنگ شروع کر دے گی۔

اس تناظر میں محمود مرداوی نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اپنی پالیسیوں کے ذریعے بنیادی طور پر ایک مذہبی جنگ مسلط کر رہا ہے نہ کہ محض فوجی قبضہ۔ انہوں نے مسجد ابراہیمی اور قبر راحیل جیسے مذہبی مقامات پر قبضے اور مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کے لیے جاری نقل مکانی اور الحاق کی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان اقدامات کا مقصد فلسطینی عوام کو ہجرت پر مجبور کرنا ہے لیکن یہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں محاصرے اور مسلسل قتل و غارت گری کے باوجود فلسطینی اپنی سرزمین پر ڈٹے رہیں گے۔

مہلت ختم ہونے کے بعد طاقت کے استعمال کی قابض اسرائیل کی دھمکی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مرداوی نے خبردار کیا کہ کسی بھی دھمکی کے خطے پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسطینی عوام کبھی بھی سفید جھنڈا نہیں لہرائیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کا مقصد فلسطینیوں کو اردن جیسے پڑوسی ممالک کی طرف دھکیلنا ہے لیکن وہ ایسا ہرگز نہیں کر پائیں گے کیونکہ فلسطینی اپنی زمین، محلوں اور دیہاتوں کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنی استقامت اور مقدس مقامات کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

حماس کے رہنما نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلسطینی اتھارٹی اور تحریک فتح سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کے درمیان بات چیت جاری ہے تاکہ مغربی کنارے میں یہودیانے اور زمینوں پر قبضے کے خلاف ایک متحدہ فلسطینی موقف تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی اتحاد کا فقدان قضیہ فلسطین کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان اسرائیلی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے اور زمینوں اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ایک متحدہ عرب اور اسلامی موقف ناگزیر ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan