لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانیہ میں قائم فلسطینی فورم نے برطانوی میوزیم کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے کے ورثے سے وابستہ تاریخی نوادرات اور مواد سے لفظ “فلسطین” کو ہٹانے یا اسے پس پشت ڈالنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔ فورم نے اس اقدام کو ادارے کی پیشہ وارانہ دیانت پر حملہ اور اپنی تاریخی روایات پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
فورم نے میوزیم کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو ایک باضابطہ مراسلہ بھیجا ہے جس میں برطانیہ میں مقیم فلسطینی برادری کی جانب سے ان حالیہ اقدامات پر شدید تشویش اور مکمل بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لفظ “فلسطین” کو حذف کرنا یا اسے بے اثر بنانا محض کوئی تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ یہ فلسطینی تشخص کو مٹانے اور عوامی سطح پر ان کی موجودگی کو کمزور کرنے کی ایک وسیع تر منظم سازش کا حصہ ہے۔
فلسطینی فورم نے نشاندہی کی کہ میوزیم دنیا کے ممتاز ترین ثقافتی اداروں میں سے ایک ہونے کے ناطے اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ تاریخ کو درستگی، دیانت اور کسی بھی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر پیش کرے۔ فورم نے ان رپورٹوں کی جانب توجہ دلائی جن کے مطابق یہ تبدیلیاں قابض اسرائیل کی حامی ایک قانونی تنظیم کی شکایات کے بعد کی گئی ہیں، اور میوزیم نے بعض سیاق و سباق میں لفظ “فلسطین” کو “سیاسی طور پر حساس” قرار دیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تاریخی زبان میں تبدیلی کے لیے “سیاسی حساسیت” کا سہارا لینا سنگین خدشات پیدا کرتا ہے، کیونکہ ثقافتی اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تاریخی اور جغرافیائی طور پر منظور شدہ اصطلاحات کا تحفظ کریں اور بیرونی دباؤ پر انہیں تبدیل نہ کریں، خاص طور پر جب معاملہ اس قوم کا ہو جو پہلے ہی بے دخلی اور محرومی کا شکار ہے۔
فورم نے اس حقیقت پر زور دیا کہ نام “فلسطین” صرف ایک جغرافیائی اصطلاح نہیں بلکہ یہ ایک زندہ ثقافت، اجتماعی حافظے اور زمین کے ساتھ مسلسل تاریخی وابستگی کی علامت ہے۔ فورم نے متنبہ کیا کہ اس نام کو ہٹانا یا اس کی اہمیت گھٹانا تاریخ اور شناخت کو مٹانے کے عمل کو جواز فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فلسطینی ثقافتی مقامات، آرکائیوز اور ادارے غیر معمولی خطرات کا شکار ہیں۔
فلسطینی فورم نے میوزیم انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام مناسب تاریخی اور جغرافیائی سیاق و سباق میں لفظ “فلسطین” کو فوری طور پر بحال کرے اور درست نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے فلسطینی مورخین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ماہرین سے مشاورت کرے۔ علاوہ ازیں کسی بھی سیاسی مداخلت سے پاک آزاد سائنسی تحقیق کے عزم کا اعادہ کیا جائے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ برطانوی میوزیم کی بطور عالمی تعلیمی و علمی ادارہ ساکھ اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ تاریخی سچائی پر قائم رہے اور ان اقوام و ثقافتوں کا احترام کرے جن کا ورثہ اس کے پاس محفوظ ہے۔ فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر بغیر کسی تاخیر کے نظرثانی کی جائے اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
لندن میں واقع برطانوی میوزیم، جس میں دنیا بھر سے لائے گئے نوادرات موجود ہیں، نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے کچھ نقشوں اور تعریفی تختیوں سے لفظ “فلسطین” کو حذف کر دیا ہے۔
دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق، لندن کے اس میوزیم سے لفظ “فلسطین” کو ہٹانے کا فیصلہ ان شکایات کے جواب میں کیا گیا جو میوزیم انتظامیہ کو موصول ہوئی تھیں۔ قدیم مصر اور فنیقیوں سے متعلق کچھ نقشوں اور تعریفی تختیوں میں بحیرہ روم کے مشرقی ساحل کو “فلسطین” کے نام سے دکھایا گیا تھا اور کچھ لوگوں کو “فلسطینی نژاد” قرار دیا گیا تھا۔
ان شکایات کی بنیاد پر میوزیم انتظامیہ نے یہ موقف اپنایا کہ لفظ “فلسطین” ایک “تاریخی جغرافیائی اصطلاح کے طور پر مناسب نہیں ہے” اور اس کے نتیجے میں اسے حذف کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
اخبار کے مطابق، یہ اشتعال انگیز اقدام زائرین کی رائے شماری اور تل ابیب کی حامی تنظیم “برٹش لایرز فار اسرائیل” (British Lawyers for Israel) کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
