غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی عقوبت خانوں سے رہائی پانے والے آٹھ فلسطینیوں کو شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچایا گیا جنہیں قابض اسرائیل نے بدنام زمانہ “سدی تیمان” نامی عقوبت خانے سے رہا کیا ہے۔ ان اسیران کی واپسی ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ذریعے غزہ کی پٹی میں ممکن ہوئی۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والے تمام اسیران کی صحت انتہائی تشویشناک اور گری ہوئی ہے، جس کے باعث انہیں فوری طور پر طبی امداد اور ضروری دیکھ بھال کے لیے ہسپتال کے مختلف وارڈز میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ان کی یہ حالت دورانِ حراست قابض دشمن کی جانب سے برتی جانے والی شدید سفاکیت اور غیر انسانی حالات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
رہا ہونے والے اسیران کی فہرست میں درج ذیل نام شامل ہیں: شجاعیہ سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ محمد عودہ عودہ شمالی، خان یونس کے 19 سالہ احمد زیاد عید النجار، جبالیہ کے 36 سالہ خالد محمود محمد شعبان اور جبالیہ ہی کے 35 سالہ عرفہ کامل محمود ابو سیف۔
فہرست میں رفح کے 23 سالہ فادی برکہ زیاد ابو سبلہ، غزہ کے 26 سالہ یوسف عدنان نمر شحیبر، غزہ ہی کے 24 سالہ یحییٰ خالد ابراہیم الہبیل اور نصیرات سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ محمد ہانی عثمان ابو عبدو بھی شامل ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق ان اسیران کو غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں بشمول کرم ابو سالم، خان یونس، جبالیہ، رفح، سول ایڈمنسٹریشن کے علاقے اور سمندر سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں سدی تیمان کے عقوبت خانے میں منتقل کر کے انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں سنہ 2026 کے مہینوں جنوری اور فروری کے دوران ریڈ کراس کے تعاون سے کرم ابو سالم بارڈر کے ذریعے فلسطینی اسیران کی وقفے وقفے سے محدود رہائی عمل میں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس عرصے کے دوران اب تک کم از کم 31 اسیران کو رہا کیا گیا ہے، اور یہ تمام اسیران ایسی ابتر جسمانی اور طبی حالت میں پہنچے کہ انہیں فوری طور پر ہنگامی طبی مداخلت کی ضرورت پڑی۔
یہ محدود رہائی بڑھتے ہوئے انسانی مطالبات کے مقابلے میں ابھی بہت کم ہے، جبکہ قابض اسرائیلی عقوبت خانوں کے اندر اسیران کی گرتی ہوئی صحت اور مناسب طبی دیکھ بھال کے فقدان کے بارے میں مسلسل انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ان سنگین انسانی حالات کی عکاسی کرتی ہے جن کا سامنا فلسطینی اسیران کو غاصب صہیونی دشمن کی قید میں ہے۔
