Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

اسرائیل نے گاڑیوں کی جاسوسی کے لیے نیا ہتھیار تیار کر لیا

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی کمپنیاں ایسے جارحانہ سائبر سافٹ ویئر تیار اور فروخت کر رہی ہیں جو جدید گاڑیوں کے سسٹمز کو ہیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سافٹ ویئر گاڑیوں کے مالکان کے بارے میں حساس ڈیٹا کا ایک وسیع ذخیرہ جمع کرنے، بشمول ان کے مقامات کا تعین کرنے، ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور گاڑی کے اندر موجود مواصلاتی نظام کے ذریعے ان کی جاسوسی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ سافٹ ویئر جاسوسی کے ہدف اور اس کے زیر استعمال گاڑی کے درمیان بیک وقت رابطہ قائم کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے سڑکوں پر موجود لاتعداد گاڑیوں کے درمیان مطلوبہ گاڑی کی شناخت ممکن ہو جاتی ہے، اور یوں گاڑی ایک چلتے پھرتے جاسوسی اڈے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

جدید گاڑیوں میں درجنوں کمپیوٹرائزڈ سسٹمز نصب ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے اور ڈیجیٹل کلاؤڈ کے ذریعے مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے سرورز سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی بریک، ٹرانسمیشن، سٹیئرنگ اور ایئر بیگز جیسے اہم سسٹمز کی ریموٹ مانیٹرنگ کی اجازت دیتی ہے۔

مزید برآں، گاڑیوں میں سیلولر سم کارڈز بھی موجود ہوتے ہیں جو نیویگیشن اور ملٹی میڈیا سسٹمز کے ساتھ مسلسل رابطہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ مینوفیکچررز کو آپریشنل ڈیٹا جمع کرنے، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کرنے اور چوری یا خرابی کی صورت میں گاڑیوں کو ٹریک کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ تاہم، اس تکنیکی ترقی نے گاڑی اور اس کے مالک کو ہیکنگ اور جاسوسی کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس سے پرائیویسی کی پامالی اور سکیورٹی کے سنگین خطرات کا دروازہ کھل گیا ہے۔

گاڑیوں کے ذریعے جاسوسی (CARINT)

گاڑیوں سے حاصل ہونے والی اس قسم کی انٹیلی جنس معلومات کو “CARINT” یعنی گاڑیوں پر مبنی انٹیلی جنس کہا جاتا ہے۔ اس میدان میں “ٹوکا” (Toka) نامی کمپنی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے، جسے تین سال قبل سابق قابض اسرائیلی وزیر اعظم ایہود بارک اور قابض فوج کے سابق سائبر چیف یارون روزین نے قائم کیا تھا۔

کمپنی نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز نگرانی کے کیمروں کو ہیک کرنے والے ٹولز تیار کرنے سے کیا تھا، جس کے بعد اس نے گاڑیوں کے ملٹی میڈیا سسٹمز کو ہیک کرنے، ان سے منسلک کیمروں اور مائیکروفون کو چلانے، ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے اور ڈرائیوروں کی لاعلمی میں ان کی باتیں سننے کی صلاحیت رکھنے والے سافٹ ویئر تیار اور فروخت کرنا شروع کر دیے۔

اخبار “ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی نے اس سافٹ ویئر کی مارکیٹنگ کے لیے قابض اسرائیلی وزارت جنگ سے باقاعدہ منظوری حاصل کی اور اسے متعدد ممکنہ گاہکوں کے سامنے پیش کیا گیا، تاہم بعد ازاں کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ 2026ء کے دوران اس پروڈکٹ کی فروخت روک دے گی۔

ماہرین ان ٹیکنالوجیز کا موازنہ “این ایس او” (NSO) کمپنی کے تیار کردہ بدنام زمانہ جاسوسی سافٹ ویئر سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج گاڑیوں میں بیرونی دنیا سے منسلک سیلولر سم کارڈز کی بڑی تعداد موجود ہے، جبکہ ان میں سائبر تحفظ کا معیار سمارٹ فونز کے مقابلے میں کہیں کم ہے، کیونکہ کمپنیوں کی توجہ ڈیٹا کے تحفظ سے زیادہ آپریشنل سیفٹی پر مرکوز ہوتی ہے۔

پرائیویسی کی شدید خلاف ورزی

رپورٹس بتاتی ہیں کہ کم از کم تین اسرائیلی کمپنیاں گاڑیوں پر مبنی انٹیلی جنس کے شعبے میں سرگرم ہیں۔ ان میں “رائزون” (Rayzone) نامی کمپنی بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں ایسے سائبر ٹولز کی مارکیٹنگ شروع کی ہے جو سڑکوں پر لگے کیمروں، ٹریفک سگنلز اور سمارٹ فونز کے ذریعے گاڑیوں کو ٹریک کرنے اور معلومات جمع کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔

یہ ٹولز انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گاڑی کے مقام کا تعین کرنے، اس کے مالک کی شناخت کرنے، اس کے سفر کے انداز کا تجزیہ کرنے، اس کے اندر وائرلیس مواصلات کی نگرانی کرنے اور اس ڈیٹا کو دیگر سرکاری معلومات کے ذرائع سے منسلک کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

اخبار کے مطابق، گاڑیوں پر مبنی انٹیلی جنس دنیا بھر میں سکیورٹی اداروں کے کام میں ایک مرکزی آلے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

ان پیش رفتوں نے قابض اسرائیلی فوج کو اپنے افسران کے لیے چینی الیکٹرک گاڑیاں خریدنے سے گریز کرنے اور اپنے فوجی اڈوں میں نجی چینی الیکٹرک گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اسی تناظر میں، ایک تیسری اسرائیلی کمپنی “اٹیروس” (Ateros) نے “جیو ڈوم” (GeoDome) نامی سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پہچاننے والے سسٹمز، سینسرز، سیلولر کمیونیکیشن اور سرکاری ڈیٹا بیس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان سینسرز میں گاڑیوں کے ٹائروں کے اندر ہوا کا دباؤ مانیٹر کرنے والے آلات بھی شامل ہیں جو مسلسل ڈیٹا نشر کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ایک منفرد ڈیجیٹل فنگر پرنٹ بنایا جا سکتا ہے جس کے ذریعے کسی مخصوص گاڑی کی شناخت کی جا سکتی ہے اور اسے جاسوسی کے ہدف سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو سول سپیس میں ڈیجیٹل نگرانی اور انٹیلی جنس کے دائرہ کار کو غیر معمولی حد تک وسیع کر دیتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan