Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی پابندیاں برقرار، مسجد اقصیٰ میں رمضان انتظامات معطل

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے بتایا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے استقبال کے لیے کی جانے والی انتظامی اور لاجسٹک تیاریوں پر عمل درآمد کو روک رہے ہیں جو کہ مذہبی آزادی پر ایک اور کاری ضرب ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس گورنری کے جاری کردہ بیان کے مطابق رواں برس کے آغاز سے اب تک مسجد اقصیٰ سے بے دخلی اور داخلے پر پابندی کے 250 سے زائد ظالمانہ احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جس کا مقصد یکطرفہ طور پر ایسے حقائق مسلط کرنا ہے جو موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت کے سراسر منافی ہیں۔

گورنری نے زور دے کر کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر قابض اسرائیل کے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون اور متعلقہ عالمی قراردادوں کے مطابق باطل، کالعدم اور غیر قانونی ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل محکمہ اوقاف اسلامی کے ملازمین پر بھی مسلسل تنگی کر رہا ہے اور انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے روک رہا ہے۔ تقریباً 25 ملازمین کو بے دخل کیا گیا اور ان میں سے چار کو گرفتار کر لیا گیا تاکہ مسجد کے امور چلانے اور مذہبی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے حوالے سے محکمے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

قابض اسرائیل کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ وہ محکمہ اوقاف کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے استقبال کے لیے تمام تر تیاریاں کرنے سے بھی روک رہا ہے جن میں دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لیے سائبان لگانا، عارضی فیلڈ ہسپتال یا کلینکس تیار کرنا اور عبادت کے معمول کے مطابق جاری رہنے کو یقینی بنانے کے لیے دیگر ضروری لاجسٹک انتظامات شامل ہیں۔

مزید اشتعال انگیزی کرتے ہوئے نام نہاد انتہا پسند مذہبی “ٹیمپل ماؤنٹ سکول” نے مسجد اقصیٰ پر صبح کے وقت دھاووں کے اوقات میں توسیع کا اعلان کیا ہے جو اب صبح 6:30 بجے سے 11:30 بجے تک جاری رہیں گے جس سے معمول کے دھاووں کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ ہو گیا ہے جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔

یہ پیش رفت “ہیکل تنظیموں” کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو فوری خط بھیجنے کے صرف ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں رمضان کے دوران نام نہاد “ٹیمپل ماؤنٹ” پر “اسرائیلی خودمختاری اور یہودیوں کے لیے عبادت کی آزادی کی ضمانت” کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی دوران قابض پولیس نے رمضان کے آخری عشرے میں دھاووں کے بارے میں فیصلہ اس وقت تک مؤخر کر دیا ہے جب تک کہ مہینے کے آغاز میں کیے گئے اقدامات پر ردعمل کا جائزہ نہ لے لیا جائے۔

گورنری کی جانب سے دستاویزی معلومات کے مطابق رمضان المبارک کے لیے قابض اسرائیل کے منصوبے میں مغربی کنارے کے اضلاع سے فلسطینیوں کے مقبوضہ بیت المقدس میں داخلے پر سخت پابندیاں شامل ہیں خاص طور پر جمعہ کے دن جس میں نمازیوں کی تعداد کو 10 ہزار تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان ظالمانہ شرائط میں عمر کی حد کا تعین بھی شامل ہے جس کے تحت 55 سال سے زائد عمر کے مردوں اور 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کو پیشگی اجازت ناموں کے ساتھ داخلے کی اجازت ہوگی۔

مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات منظم جبر اور ناکہ بندی کی پالیسی کی ایک نئی کڑی ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام بالخصوص اندرونِ فلسطین کے فلسطینیوں سے جذباتی اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخت سفر باندھنے اور وہاں رباط (پہرہ دینے) کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ مقبوضہ بیت المقدس کو خالی کرانے اور اسے یہودیانے کی سازشوں کے مقابلے میں شہر اور اس کے باشندوں کی استقامت کو تقویت ملے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan