Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا، ایم ایس ایف بھی امداد داخل کرانے میں ناکام

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بین الاقوامی طبی تنظیم (ایم ایس ایف) نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے باوجود وہ قابض اسرائیلی پابندیوں کے باعث رواں سال کے آغاز سے اب تک کوئی بھی انسانی امداد یا طبی سامان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

تنظیم کے سیکرٹری جنرل کرسٹوفر لوکیئر نےپیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی صورتحال بدستور تباہ کن ہے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ انسانی ضروریات اس وقت بے پناہ ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوششوں کو کم کرنے کے بجائے ان میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسم سرما کی شدت نے غزہ میں فلسطینیوں کے دائمی طبی مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسے وقت میں متعدی امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جب 18 ہزار سے زائد افراد طبی بنیادوں پر انخلا کے منتظر ہیں جن میں 4 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں پناہ گاہوں کی ابتر صورتحال اور سردی کے موسم نے مل کر پوری پٹی میں صحت کی صورتحال کو مزید تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔

لوکیئر نے مزید کہا کہ سیز فائر معاہدے کے باوجود غزہ میں اب بھی لوگ قتل کیے جا رہے ہیں، حالانکہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے سات اکتوبر 2023ء سے امریکی تعاون کے ساتھ غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا آغاز کیا جو دو سال تک جاری رہی۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ غزہ کے 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔

اگرچہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے لیکن قابض اسرائیل اس کے آغاز سے ہی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے سینکڑوں خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں وزارت صحت کے مطابق اب تک 600 سے زائد فلسطینی شہید اور 1607 زخمی ہو چکے ہیں۔

نسل کشی کی جنگ رکنے کے باوجود غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی ہے کیونکہ قابض اسرائیلی حکام معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل انحراف کر رہے ہیں۔ قابض اسرائیل جنگی کارروائیاں روکنے، سرحدی گزرگاہیں کھولنے اور خوراک، ادویات، خیموں اور پورٹیبل گھروں سمیت امدادی سامان کی مقررہ مقدار داخل کرنے کے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan