Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں قتل عام جاری، القسام رہنما سمہیت 15 فلسطینی شہید

غزہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ صہیونی فوج نے فضائی حملوں، توپ خانے کی گولہ باری اور غزہ کے مشرقی علاقوں میں نصب فوجی گاڑیوں سے فائرنگ کر کے متعدد فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کر دیا ہے۔

اتوار کے روز قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں کم از کم 15 شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔

صہیونی فوج نے اتوار کو علی الصبح غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب میں نہتے شہریوں کے خلاف دو نئے قتل عام کیے جس کے نتیجے میں 11 فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ بیت حانون میں ایک اور حملے میں دو مزید شہری شہید ہوئے، جبکہ شام کے وقت ایک معمر شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب اسرائیل سنہ 2024ء میں 11 اکتوبر کو ہونے والے سیز فائر معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بڑے پیمانے پر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہی پھیلانے میں مصروف ہے۔

مقامی ذرائع نے اتوار کی شام اطلاع دی ہے کہ بیت حانون کے رہائشی 64 سالہ خضر یوسف فیاض، دیر البلح کے مشرقی علاقے میں قابض اسرائیل کی گولہ باری سے زخمی ہونے کے بعد شہید ہو گئے۔

طبی ذرائع کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع بیت لاہیا سکوائر پر شہریوں کے ایک گروپ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک شہید اور 3 زخمیوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایمرجنسی و ایمبولینس سروسز نے غزہ شہر کے جنوب مغربی محلے تل الہوى میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک شہری کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک اسرائیلی ڈرون کے ذریعے کیا گیا جس میں سرایا القدس کے کمانڈر سامی الدحدوح ‘ابو ابراہیم’ کو نشانہ بنایا گیا۔

جنوبی غزہ کے شہر خانیونس میں ترک مسلخ کے قریب اسرائیلی حملے کے بعد ناصر میڈیکل کمپلیکس میں 5 شہداء کے جسدِ خاکی لائے گئے جن کی شناخت براء الشقرا، وسیم شاہین، فراس النجار، احمد البيوک اور مہند العایدی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

اسی طرح شمالی غزہ میں جبالیہ کیمپ کے مغرب میں ٹیلی کمیونیکیشن چوک کے قریب پناہ گزینوں کے خیموں پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں 4 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ الشفاء ہسپتال اور غزہ شہر کے السرايا مرکز میں لائے گئے ان شہداء کے نام ایاد ابو عسکر، احمد حسان، عبد الکریم البياری اور مہند کریزم ہیں۔

اسی تناظر میں، قابض فوج نے جبالیہ کیمپ کے شمال میں شیخ زاید چوراہے کے گرد و نواح میں رہائشی عمارتوں کو بڑے پیمانے پر دھماکوں سے اڑا کر مسمار کر دیا، جبکہ توپ خانے سے گولہ باری اور فوجی گاڑیوں سے شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

قابض اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شام دعویٰ کیا کہ اس نے شمالی غزہ میں ایک فلسطینی کو اس لیے قتل کر دیا کیونکہ اس نے نام نہاد ‘پیلی لائن’ عبور کر کے فوج کے قریب آنے کی کوشش کی تھی جس سے ان کے بقول خطرہ پیدا ہوا تھا۔

صہیونی دشمن نے جبالیہ کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، جبکہ جنوبی شہر خانیونس پر بھی فضائی حملوں کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ غزہ شہر کے مشرق میں محلہ التفاح میں رمژون السنافور کے گرد و نواح میں توپ خانے کی گولہ باری سے شہریوں کے گھروں کے قریب گولوں کے ٹکڑے بکھر گئے۔

شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج نے شیخ زاید کے علاقے کے گرد و نواح میں 3 بارود سے بھری گاڑیاں دھماکے سے اڑا دیں، جس کے ساتھ ہی جبالیہ کیمپ کے مشرق میں رہائشی بلاکس کو مسمار کرنے کا عمل بھی جاری رہا۔

غزہ میں وزارتِ صحت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسپیئر پارٹس کی کمی کے باعث غزہ کی پٹی کے اکثر ہسپتال کام کرنا بند کر دیں گے۔ وزارت نے تصدیق کی کہ سیز فائر کے بعد سے اب تک ضروری پرزہ جات کی کوئی کھیپ اندر داخل نہیں ہونے دی گئی اور انہیں پہنچانے کی تمام بین الاقوامی کوششیں تاحال ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کی اس جنگ میں شہداء کی کل تعداد 72051 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 171706 تک پہنچ چکی ہے۔ ہزاروں شہداء اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں جن تک پہنچنے سے ایمبولینس اور محکمہ شہری دفاع کا عملہ تاحال قاصر ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan