مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طوباس کے جنوب میں واقع قصبہ طمون میں اتوار کی شام فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سرگرم عباس ملیشیا نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے دو معصوم بچوں کو شہید اور ان کے والد کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کو مطلوب مجاہد سامر سمارہ کی صاحبزادی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے بھائی سے جا ملی جو عباس ملیشیا کے اہلکاروں کی جانب سے ان کے والد کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں شام کو ہی شہید ہو گیا تھا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے سامر سمارہ کو زخمی کرنے کے بعد گرفتار کر لیا۔
سیاسی اسیران کے اہل خانہ کی کمیٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے طمون میں سیکورٹی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اس سنگین جرم کی شدید مذمت کی ہے۔ اس حملے میں قابض اسرائیل کو مطلوب مجاہد سامر سمارہ کے بیٹے یزن سمارہ اور ان کی چھوٹی بہن شہید ہو گئے جن کی گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور بچی کے سر میں گولی لگی۔
اتوار کو جاری کردہ اپنے بیان میں کمیٹی نے کہا کہ یہ واقعہ اس منظم پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت قابض اسرائیل کو مطلوب مزاحمت کاروں کا تعاقب کیا جاتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل اور اس کے آبادکاروں کے وحشیانہ حملوں کے باوجود صہیونی دشمن کو خوش کرنے اور غدارانہ سیکورٹی کوآرڈینیشن کی پالیسی کو برقرار رکھنے کے لیے فلسطینی خون بہایا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے زور دے کر کہا کہ اس غدارانہ سیکورٹی نہج کو جاری رکھنا، جس کے تحت ان لوگوں کا پیچھا کیا جاتا ہے جو قابض اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ہیں، قومی مقصد سے سنگین انحراف ہے۔ یہ پالیسی سیکورٹی اداروں کو اپنے ہی عوام کے تحفظ کے بجائے ان کے مدِ مقابل لا کھڑا کرتی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اس جرم کی مکمل ذمہ داری ان تمام اداروں اور افراد پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے حکم جاری کیا، اس پر عمل درآمد کیا یا اسے سیاسی تحفظ فراہم کیا۔
کمیٹی نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ اس واقعے کو جواز فراہم کرنے یا اسے ایک عام سیکورٹی کارروائی قرار دینے کی کوششیں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ بہنے والا خون فلسطینی ہے اور یہ ایک ایسے مجاہد کے تعاقب کے فیصلے کا نتیجہ ہے جو قابض اسرائیل کو مطلوب ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ مجاہدین کے تعاقب کی پالیسی کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ان تمام سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے جنہیں مزاحمتی سرگرمیوں، اظہارِ رائے یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔
بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ “ہمارے عوام کا خون سستا نہیں ہے اور یہ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا کہ ایسی پالیسی جاری رہے جس میں مزاحمت کار کا تو تعاقب کیا جائے لیکن قابض اسرائیل اور اس کے آبادکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے”۔
