Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں طبی بحران، 20 ہزار سے زائد مریض بیرون ملک علاج کے منتظر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ 20 ہزار سے زائد مریض اور زخمی بیرون ملک علاج کے لیے سفر کے منتظر ہیں، وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ رفح کراسنگ کا جزوی طور پر کھولا جانا انسانی المیے کی سنگینی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

وزارت صحت نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کو درپیش تباہ کن صحت اور انسانی صورتحال کے پیش نظر رفح بری کراسنگ کی مسلسل بندش اور اسے جزوی و مقید طور پر چلانے کے عمل کو شدید تشویش اور عدم اطمینان کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

بیان میں اشارہ کیا گیا کہ ان مریضوں میں کینسر، امراض قلب، گردوں کے فیل ہونے اور شدید زخموں والے ایسے تشویشناک کیسز شامل ہیں جنہیں فوری طور پر ایڈوانس سرجری کی ضرورت ہے، جو کہ حصار اور نظام صحت کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے باعث غزہ کی پٹی کے اندر دستیاب نہیں ہے۔

وزارت نے کہا کہ اگرچہ سنہ 2026ء میں 2 فروری کو رفح بری کراسنگ کو جزوی طور پر چلانے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اب تک جن افراد کو سفر کی اجازت دی گئی ہے ان کی تعداد انتہائی کم ہے اور یہ بڑھتے ہوئے طبی المیے کے حجم سے کسی صورت میل نہیں کھاتی۔

وزارت صحت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جزوی آپریشن ایک ناکافی اقدام ہے اور یہ مریضوں اور زخمیوں کے تئیں واجب الادا کم از کم انسانی ذمہ داریوں کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت کو علاج کے لیے باہر جانے والے مریضوں اور زخمیوں سے دل دہلا دینے والی شہادتیں موصول ہوئی ہیں، جن کے مطابق انہیں غیر ضروری رکاوٹوں اور پیچیدہ طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کہ ایک ایسی منظم پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جو ان کی نفسیاتی اور جسمانی تکلیفوں میں اضافے اور انتہائی پیچیدہ انسانی حالات میں ان کے بوجھ کو دوگنا کرنے کا باعث بنتی ہے۔

وزارت نے خبردار کیا کہ رفح بری کراسنگ پر اس مقید طریقہ کار کا تسلسل، جو مسافروں کی تعداد کو محدود اور طبی انخلاء کے عمل کو سست بناتا ہے، ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور انسانی و طبی صورتحال کو خطرناک حد تک ابتر کرنے کا باعث بن رہا ہے، جو عالمی برادری کو اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔

وزارت صحت نے مطالبہ کیا کہ رفح بری کراسنگ کو مستقل اور باقاعدہ طور پر کھولا جائے تاکہ مریضوں اور زخمیوں کی بغیر کسی پابندی یا تاخیر کے نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی طرح وزارت نے مطالبہ کیا کہ شدید نوعیت کے مریضوں اور زخمیوں کا فوری طبی انخلاء کیا جائے اور مسافروں کی تعداد میں جمع شدہ طبی ضروریات کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

وزارت نے متعلقہ بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ مریضوں کے علاج اور سفر کے حق کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے، کیونکہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے جس کی ضمانت بین الاقوامی قوانین اور میثاق دیتے ہیں۔

بیان کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مریضوں کی زندگیاں محض اعداد و شمار نہیں جنہیں مؤخر کر دیا جائے، اور ان کے سفر میں مسلسل رکاوٹ مزید جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے اس بڑھتی ہوئی تکلیف کو ختم کرنے کے لیے فوری اور ذمہ دارانہ اقدام کی ضرورت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan