وادی اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ رات وحشی شرپسند آبادکاروں نے شمالی وادی اردن کے علاقے المیتہ میں کئی غیر آباد خیموں کو آگ لگا دی۔ یہ خیمے ان فلسطینی خاندانوں کی ملکیت تھے جنہیں مسلسل حملوں اور دھمکیوں کے نتیجے میں جبراً اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
یہ بزدلانہ حملہ دشمن کی جانب سے جاری مسلسل اشتعال انگیزیوں کا حصہ ہے۔ دیوار و آبادکاری مزاحمتی کمیشن کے مطابق قابض اسرائیل کی افواج اور آبادکاروں نے گذشتہ ماہ جنوری کے دوران مجموعی طور پر 1872 حملے کیے جن میں سے 468 حملے تنہا آبادکاروں کی جانب سے کیے گئے۔
آج نماز فجر کے ساتھ ہی مقبوضہ مغربی کنارہ کے مختلف علاقوں میں قابض اسرائیل کی افواج کی سرپرستی میں آبادکاروں کے مسلح گروہوں کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی گئی۔
نابلس میں آبادکاروں نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع قصرا اور جالود نامی قصبے کے مضافات پر دھاوا بولا اور شہریوں کی املاک سمیت زرعی پلاسٹک ہاؤسز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم مقامی آبادی نے جانفشانی سے ان کا راستہ روک لیا۔
اسی طرح یتسهار نامی بائی پاس روڈ پر مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے شہریوں کی نقل و حرکت میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
بیت لحم میں بھی آبادکاروں نے خلايل اللوز کے علاقے میں کسانوں اور چرواہوں کا پیچھا کیا اور صبح سویرے سے ہی انہیں ان کی اپنی زمینوں تک پہنچنے سے روک دیا تاکہ اس علاقے میں زبردستی آبادکاری کے ایجنڈے کو مسلط کیا جا سکے۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری میں بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں آبادکاروں کے گروہوں نے مسافر یطا اور مقبوضہ بیت المقدس کے جنوبی دیہی علاقوں میں زرعی زمینوں پر دھاوا بول کر زیتون کے متعدد درختوں کو کاٹ ڈالا۔ یہ کارروائی مقبوضہ بیت المقدس کے گرد ونواح میں قائم چوکیوں پر سخت پابندیوں اور پرانے شہر کے دروازوں پر آبادکاروں کے اکٹھے ہونے کی کال کے ساتھ ہی کی گئی۔
سلفیت میں آبادکاروں نے کفل حارس قصبے کی زرعی سڑک بلاک کر دی اور شہریوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ گذشتہ مہینوں کے دوران آبادکاروں کی یہ سفاکیت اب ایک منظم اور تکرار کے ساتھ ہونے والے حملوں کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی زمین پر غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنا ہے۔
