لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانیہ کی سپریم کورٹ نے “فلسطین ایکشن” نامی تنظیم پر پابندی عائد کرنے اور اسے دہشت گرد گروہ قرار دینے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یہ تاریخی حکم تحریک کے بانیوں میں سے ایک کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر سنایا گیا ہے۔
عدالت نے اپیل کے حق میں دو بنیادی وجوہات کی تائید کی، جہاں جسٹس وکٹوریہ شارپ نے وضاحت کی کہ اس پابندی کے نتیجے میں اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی کے حق میں بڑی مداخلت ہوئی ہے۔ عدالت نے اشارہ کیا کہ یہ فیصلہ فی الحال عارضی طور پر برقرار رہے گا تاکہ فریقین کے وکلاء کو مستقبل کے اقدامات کے حوالے سے اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع مل سکے۔
اخبار ‘دی گارڈین’ کے مطابق یہ فیصلہ ان چھ کارکنوں کی بریت کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جن پر برطانیہ میں ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی کی تنصیب میں داخل ہونے پر سنگین ڈکیتی کا الزام لگایا گیا تھا۔
فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدیٰ عموری نے اس وقت کی وزیر داخلہ ایویٹ کوپر کے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تھی جس میں تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سنہ 2000 کے تحت ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ یہ پابندی سنہ 2025 میں 5 جولائی کو نافذ ہوئی تھی جس کے بعد تحریک سے وابستگی یا اس کی حمایت ایک فوجداری جرم بن گیا تھا جس کی سزا 14 سال تک قید تھی۔
اسی تناظر میں گروپ کی سب سے کم عمر رکن 21 سالہ فاطمہ راجوانی نے ان عدالتی فیصلوں کو اپنے نصب العین کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیوری نے کیس پر غور کرنے کے پہلے ہی موقع پر ان کے ساتھ انصاف کیا۔ فاطمہ راجوانی کو 18 ماہ کی حراست کے بعد گذشتہ ہفتے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، جب وولویچ عدالت کی جیوری نے انہیں سنہ 2024 میں 6 اگست کو برسٹل کے قریب فلٹن میں ‘ایلبیٹ سسٹمز’ کمپنی کی فیکٹری میں داخل ہونے سے متعلق پرتشدد ہنگامہ آرائی کے الزام سے بری کر دیا تھا۔
لندن میں ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران ہدیٰ عموری کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ پابندی کا فیصلہ غیر قانونی ہے اور اسے کالعدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ تنظیم ممنوعہ گروہوں کی فہرست میں شامل کیے جانے سے قبل محض براہِ راست کارروائی اور سول نافرمانی کی ایک شکل اختیار کیے ہوئے تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پابندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں مذہبی پیشوا، اساتذہ، ریٹائرڈ افراد، برطانوی فوج کے سابق افسران اور ایک 81 سالہ سابق جج بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب وزارتِ داخلہ کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ پابندی نے تحریک کی جانب سے شدت پسندی کے رجحان کو روکنے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے، اور اس سے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے کرنے یا غزہ میں قابض اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوئی۔
اخبار ‘دی ٹائمز’ کے مطابق گذشتہ سال جون میں فلسطین ایکشن کے کارکنوں نے برطانوی رائل ایئر فورس کے سب سے بڑے اڈے ‘بِریز نورٹن’ میں داخل ہو کر فوجی طیاروں پر سرخ رنگ پھینکا تھا، جس سے انتہائی حساس سکیورٹی والے مقام کی خلاف ورزی پر ایک وسیع بحث چھڑ گئی تھی۔ اس کارروائی میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ 70 لاکھ پاؤنڈ لگایا گیا تھا اور چار افراد پر املاک کو نقصان پہنچانے اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ نے جولائی میں فلسطین ایکشن کو دہشت گرد گروہ قرار دینے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اس میں شامل ہونا، حمایت کرنا یا اس کے نشانات پہننا جرم قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں لندن، مانچسٹر اور کارڈف جیسے شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے حکام نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا تھا۔
