(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) افریقی یونین نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صومالیہ کے علیحدگی پسند علاقے کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ منسوخ کرے اور صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ مطالبہ افریقی یونین کی امن کونسل کی جانب سے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں وزرائے خارجہ کی سطح پر منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں سامنے آیا جس میں صومالیہ کی صورتحال اور وہاں سپورٹ اینڈ سٹیبلٹی مشن کے آپریشنز کا جائزہ لیا گیا۔
امن کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم صومالیہ کو تقسیم کرنے کے مقصد سے کی جانے والی ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں اور ہر اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں جو اس کی خود مختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والا ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم قابض اسرائیل کی جانب سے نام نہاد جمہوریہ صومالی لینڈ کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت اور اسے مسترد کرتے ہیں اور قابض اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسے فوری طور پر واپس لے۔
افریقی یونین کا یہ موقف قابض اسرائیل کی جانب سے گذشتہ سنہ 2025ء میں 26 دسمبر کو علیحدگی پسند صومالی لینڈ کو ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جس پر علاقائی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
یہ علیحدگی پسند علاقہ سنہ 1991ء میں صومالیہ سے علیحدگی کے اعلان کے بعد سے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا تاہم یہ ایک آزاد انتظامی، سیاسی اور سکیورٹی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے جبکہ مرکزی حکومت اس پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہی ہے اور نہ ہی اس کی قیادت اب تک مکمل آزادی حاصل کر سکی ہے۔
اسی سیاق میں کونسل نے القاعدہ سے وابستہ مسلح گروہ الشباب کے خلاف فوجی کامیابیوں کی تعریف کی۔
کونسل نے صومالی حکومت پر زور دیا کہ وہ وفاقی ریاستوں کے ساتھ اندرونی مکالمے کو فروغ دے تاکہ ان اختلافات پر قابو پایا جا سکے جو استحکام کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
صومالیہ دہائیوں سے جاری تنازعات، افراتفری، قدرتی آفات اور الشباب کے خلاف برسوں سے جاری لڑائی کے بعد دوبارہ قدموں پر کھڑا ہونے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
دوسری جانب کونسل نے سوڈان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی بھی شدید مذمت کی۔
اپنے بیان میں کونسل نے بیرونی فریقوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے بعض حصوں میں جاری لڑائی کے دوران ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو تنازع کو مزید ہوا دینے کا باعث بنے۔
