رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رام اللہ میں فلسطینی وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے ٹیکسوں کی رقم کی مسلسل روک تھام کے باعث فلسطینی اتھارٹی کو “وجود کے خطرے” کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سنہ 2026ء کا سال اتھارٹی کے لیے مشکل ترین سال ثابت ہوگا۔
وزیر خزانہ اسطفان سلامہ نے رام اللہ شہر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ قابض اسرائیل فلسطینی ریونیو کے تقریباً 70 فیصد حصے پر قابض ہو چکا ہے، جس سے مالیاتی خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جن میں سب سے اہم تنخواہوں کی ادائیگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔
انہوں نے ذکر کیا کہ سنہ 2026ء کا سال فلسطینی اتھارٹی کی تاریخ میں مالی لحاظ سے مشکل ترین سال ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بینکوں کے حوالے سے قابض اسرائیل کی پالیسیاں “آگ سے کھیلنے” کے مترادف ہیں۔
انہوں نے ان اقدامات کے مالیاتی اور بینکنگ کے استحکام اور فلسطینی علاقوں کی مجموعی اقتصادی صورتحال پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔
بارہا قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے اہم مالیاتی ذرائع منقطع کرنے اور فلسطینی و اسرائیلی بینکوں کے درمیان تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے فلسطینی معیشت بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو سکتی ہے اور تجارتی نقل و حرکت مفلوج ہو سکتی ہے، جبکہ مغربی کنارے میں بینکنگ نظام کے بیٹھ جانے کے بارے میں بھی انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
سلامہ نے قرار دیا کہ کلیئرنس فنڈز (مقاصہ) سے قابض اسرائیل کی جانب سے کٹوتیوں کے تسلسل اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے سائے میں فلسطینی اتھارٹی کو “وجود کے خطرے” کا سامنا ہے، انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ اتھارٹی کو کمزور کرنے اور اس کی بقا کی صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے کئی مہینوں سے کلیئرنس فنڈز کی مد میں کوئی رقم وصول نہیں کی، انہوں نے موجودہ صورتحال کو “انتہائی خطرناک” قرار دیا۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق فلسطینی اتھارٹی سنہ 2019ء سے مالی بحران کا شکار ہے، جس کی شدت میں سنہ 2025ء کے دوران مزید اضافہ ہوا جسے مشکل ترین سال قرار دیا گیا، جس میں خسارہ اور واجب الادا رقم 4.26 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
سنہ 2019ء سے قابض اسرائیل نے مختلف بہانوں سے فلسطینی کلیئرنس فنڈز سے کٹوتیوں کا آغاز کیا اور پھر گذشتہ نو ماہ سے ان کی منتقلی مکمل طور پر روک دی، جس نے اتھارٹی کو ایک ایسے مسلسل مالی بحران میں دھکیل دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو مکمل تنخواہیں دینے سے قاصر ہے۔
واضح رہے کہ کلیئرنس فنڈز (مقاصہ) وہ ٹیکس ہیں جو فلسطینی جانب درآمد کی جانے والی اشیاء پر لگائے جاتے ہیں، قابض اسرائیل انہیں فلسطینی اتھارٹی کے لیے جمع کرتا ہے، لیکن اسرائیل انہیں کٹوتیوں اور روک تھام کے ذریعے ایک سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
اس تناظر میں سلامہ نے گذشتہ سال کے دوران بیرونی امداد کے حجم میں نسبتاً بہتری کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ فلسطین کو بجٹ کے لیے 800 ملین ڈالر کی براہِ راست امداد موصول ہوئی، اس کے علاوہ عطیہ دہندگان سے تقریباً 850 ملین ڈالر ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “بیرونی امداد کے حجم میں اس بہتری کے باوجود، اسرائیلی اقدامات کے تسلسل کے باعث مالی چیلنجز اب بھی بہت بڑے ہیں”۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو درپیش بے مثال مالی بحران کے پیش نظر حکومت آئندہ پیر کو اپنے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کا 60 فیصد ادا کرے گی۔
