اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے ایک اطالوی صحافی کو فلسطینی ریاست میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، حالانکہ وہ گذشتہ برسوں میں تقریباً 15 بار یہاں آ جا چکے ہیں اور ہر دورے کے دوران انہوں نے سرکاری پریس آفس سے باقاعدہ صحافتی کارڈ بھی حاصل کیا تھا۔
عبرانی اخبار ہارٹز کی جانب سے شائع کردہ تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال جولائی میں الیسانڈرو اسٹیفانیلی کا ڈیجیٹل ویزا بغیر کسی وجہ بتائے منسوخ کر دیا گیا تھا۔
رواں سال جنوری میں جب انہوں نے اردن کے راستے مقبوضہ فلسطین میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں تقریباً پانچ گھنٹے تک تفتیش کے لیے حراست میں رکھا گیا اور ان کے داخلے کی منظوری نہیں دی گئی۔ انہیں فراہم کردہ دستاویزات میں لکھا گیا تھا کہ اسرائیلی پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے واقعات کی کوریج جانبدارانہ (ایک طرفہ) انداز میں کرتے ہیں۔
اسٹیفانیلی ایک آزاد صحافی کے طور پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کرتے ہیں، جن میں فرانسیسی اخبار “لیبراسیون”، امریکی میگزین “دی اٹلانٹک” اور اطالوی اخبارات “لا ریپبلیکا” اور “لا اسٹامپا” شامل ہیں۔
قابض اسرائیل میں اپنے کام کے برسوں کے دوران انہیں کبھی بھی اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا اور نہ ہی ان سے تفتیش کی گئی۔ تاہم گذشتہ جولائی میں انہیں ای میل کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے اور انہیں اس کی تجدید کے لیے روم میں اسرائیلی سفارت خانے سے رجوع کرنا ہوگا۔ انہوں نے سفارت خانے سے رابطہ کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیفانیلی نے گذشتہ ماہ اردن کے راستے دوبارہ داخلے کی کوشش کی اور وہ شاہ حسین پل (فلسطینی نام جسر الکرامہ) پہنچے جہاں اسرائیلی محکمہ آبادی نے انہیں روک کر پوچھ گچھ کی۔ تقریباً پانچ گھنٹے بعد انہیں مطلع کیا گیا کہ ان کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں واپس اردن بھیج دیا گیا۔
پوچھ گچھ کی دستاویز میں لکھا گیا تھا کہ انہیں سکیورٹی حکام کے حوالے کیا گیا کیونکہ ان سے سکیورٹی انویسٹی گیشن مطلوب تھی۔ اس میں یہ بھی درج تھا کہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے مذکورہ شخص کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں کہ وہ ایک صحافی ہے اور اسرائیل کے خلاف جانبدارانہ کوریج کرتا ہے۔
دستاویز کے بقیہ حصے میں اسرائیلی پولیس کے مغربی کنارہ بریگیڈکی معلومات نقل کی گئی تھیں جن کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد انہوں نے ریاست اسرائیل پر مغربی کنارے میں نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) برتنے کا الزام لگایا تھا، اسی لیے ان کے داخلے پر پابندی کی سفارش کی گئی۔
واضح رہے کہ اسٹیفانیلی کے داخلے پر پابندی حالیہ عرصے میں داخلہ مسترد کیے جانے کے متعدد واقعات کا تسلسل ہے۔ ان کیسز میں قابض حکام نے ان رضاکار خواتین ڈاکٹروں کا داخلہ بھی بند کر دیا ہے جو غزہ کی پٹی میں زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مدد کے لیے واپس جانا چاہتی تھیں، اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ملازمین، انسانی امدادی تنظیموں کے کارکنان اور مغربی کنارے میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو بھی روکا گیا ہے۔