Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے مغربی کنارے میں 22 ہزار فلسطینی گرفتار

مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی کلب برائے اسیران نے اطلاع دی ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس سے خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 22 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں 9300 سے زائد فلسطینی قید ہیں جہاں سے تشدد اور فاقہ کشی کی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں جبکہ قابض دشمن کے ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 1112 فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔

کلب برائے اسیران نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نسل کشی کے جرم کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں گرفتاریوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 22 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

کلب نے واضح کیا کہ اس تعداد میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں قابض اسرائیل نے قید رکھا ہوا ہے اور وہ بھی جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ کلب نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعداد و شمار صرف ڈھائی سال کے عرصے میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد میں ایک تاریخی فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار میں غزہ کی پٹی سے گرفتار کیے گئے ہزاروں فلسطینی اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے کی جانے والی گرفتاریاں شامل نہیں ہیں۔

کلب نے اشارہ کیا کہ مغربی کنارے میں گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل اور بڑھتی ہوئی رفتارسے جاری ہے کیونکہ قابض اسرائیلی افواج نے گذشتہ منگل کی شام سے بدھ کی صبح تک کم از کم 40 شہریوں کو گرفتار کیا جن میں 3 خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے، اس کے علاوہ سابقہ اسیران بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔

کلب برائے اسیران نے مزید بتایا کہ ان گرفتاریوں کے ساتھ غیر معمولی خلاف ورزیاں بھی کی جا رہی ہیں جن میں مار پیٹ، اسیران اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنا، گھروں کی توڑ پھوڑ اور گاڑیوں، نقدی رقم اور سونے کے زیورات کی ضبطی شامل ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ نسل کشی کے آغاز سے اب تک قابض فوج نے ہزاروں فلسطینیوں سے فیلڈ انویسٹی گیشن کے نام پر پوچھ گچھ کی ہے جس کے دوران فوجیوں نے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جو تفتیشی مراکز اور حراستی مراکز میں کیے جانے والے تشدد سے کسی طور کم نہیں ہیں۔

کلب برائے اسیران کے 5 فروری کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں اسیران کی کل تعداد 9300 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 56 خواتین اسیران، 350 بچے اور 3358 انتظامی قیدی شامل ہیں۔

فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اسیران تشدد، فاقہ کشی اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے اب تک درجنوں اسیران اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

غزہ پر جنگ شروع کرنے کے بعد سے قابض اسرائیل نے مغربی کنارے میں قتل و غارت، گرفتاریوں، جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع جیسے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1112 فلسطینی شہید اور تقریباً 11 ہزار 500 زخمی ہو چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan