غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد و بحالی کی ایجنسی (انروا) نے کہا ہے کہ غزہ پر حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 90 فیصد سکولوں کو قابض اسرائیل نے نقصان پہنچایا یا انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
انروا نے آج جمعرات کے روز ایکس پلیٹ فارم پر بتایا کہ غزہ میں اس کے جو سکول اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں، وہ اب پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ایجنسی نے وضاحت کی کہ اب بچوں کو انروا کی ٹیموں کی جانب سے عارضی تعلیمی مراکز میں یا ڈیجیٹل لرننگ کے ذریعے تعلیم دی جا رہی ہے۔
انروا نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل نے جبالیا میں اس کے ایک سکول کو بارود کے ذریعے مسمار کر دیا، اور یہ واضح کیا کہ یہ سکول چھ سکولوں پر مشتمل ایک کمپلیکس کی آخری بچ جانے والی عمارت تھی۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل نے جنوری سے اب تک انروا کے 8 سکولوں کو مسمار کیا ہے، جبکہ ایجنسی نے سنہ 2026ء 7 فروری کو البريج ہیلتھ سینٹر کو دوبارہ کھول دیا ہے تاکہ غزہ کے مشرقی وسطی علاقے میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو بحال کیا جا سکے۔
انروا نے قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ غزہ میں جنگ، سیز فائر کے باوجود ایک دوسری شکل میں جاری ہے، جو انسانی تکالیف کے تسلسل، بیماریوں کے پھیلاؤ اور انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تباہی کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔
برطانوی یونیورسٹی کیمبرج سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں غزہ کی صورتحال کو دانستہ طور پر کی جانے والی “تعلیمی نسل کشی” قرار دیا گیا ہے، جہاں کے اکثر سکولوں کی کلی یا جزوی تباہی کے ذریعے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ہزاروں طلباء اور سینکڑوں اساتذہ و ماہرینِ تعلیم کی شہادت کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے، جو تعلیمی کیڈرز کی ایک پوری نسل کے ضیاع کی علامت ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سکولوں کو پناہ گاہوں میں تبدیل کرنے کی وجہ سے موجودہ حالات میں تعلیمی عمل کا دوبارہ آغاز ناممکن ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلسل جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نفسیاتی صدمات آنے والے کئی برسوں تک بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بنیں گے، کیونکہ ایسا محفوظ ماحول میسر نہیں جو انہیں نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کر سکے۔
رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ منظم حملے محض جنگ کے ضمنی اثرات نہیں ہیں، بلکہ یہ نوجوانوں کو ترقی کے بنیادی ذریعے یعنی علم سے محروم کر کے فلسطینی قومی شناخت کے مستقبل کو نشانہ بنانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
