دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے عالمی فوجداری عدالت کو مطلوب قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی نام نہاد غزہ امن کونسل میں شمولیت کو دورِ حاضر کا سب سے بڑا مذاق قرار دیا ہے۔
اسامہ حمدان نے میڈیا کو دیے گئے بیانات میں واضح کیا کہ حماس کو ثالثوں کی جانب سے مزاحمت کے ہتھیاروں سے متعلق کوئی باضابطہ مسودہ یا تجاویز موصول نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کا موقف غیر متزلزل ہے اور اس نے اپنے ہتھیار منجمد کرنے کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ جب تک غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، مزاحمت ایک جائز حق ہے۔
فلسطینی رہنما نے فلسطینی عوام کی جانب سے کسی بھی بیرونی سرپرستی کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ کوئی بھی بین الاقوامی فورس غزہ میں قابض فوج کا متبادل نہیں بن سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک نے انڈونیشیا کی حکومت سے رابطہ کر کے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کا کردار صرف پٹی کی سرحدوں پر تعیناتی تک محدود ہونا چاہیے تاکہ قابض دشمن کو الگ رکھا جا سکے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اسامہ حمدان نے اشارہ کیا کہ اگر کوئی بین الاقوامی استحکام فورس تشکیل دی جاتی ہے تو اس کا بنیادی کام فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ قابض دشمن رفح کراسنگ کو فعال کرنے کے حوالے سے ہٹ دھرمی برقرار رکھے ہوئے ہے اور مسافروں کی انتہائی محدود تعداد کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جبکہ قطاع کے انتظامی امور چلانے والی قومی کمیٹی کے داخلے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
حماس کے رہنما نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ قابض اسرائیل سات اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی میں غزہ میں نسل کشی کی مہم چلا رہا ہے جس میں معصوموں کا قتل عام، فاقہ کشی، وحشیانہ تباہی، جبری ہجرت اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن تمام بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے جنگ بندی کے احکامات کو مسلسل پسِ پشت ڈال رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ اور لاکھوں بے گھر ہیں جبکہ انفراسٹرکچر اور قطاع کے تمام شہروں اور علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی و سفاکیت کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔
