غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنیوا اکیڈمی برائے بین الاقوامی انسانی قانون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں شہداء کی کل تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ اندازہ ان رپورٹس کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جن کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری مسلسل فوجی کارروائیوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی میں 10 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
اکیڈمی میں بین الاقوامی انسانی قانون کے پراجیکٹ کے سربراہ سٹیوارٹ کیسی ماسلن نے وضاحت کی کہ اب تک سامنے آنے والے اعداد و شمار انسانی جانوں کے ضیاع کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہے جن کی لاشیں اب تک نہیں نکالی جا سکیں اور نہ ہی انہیں سرکاری طور پر دستاویزی شکل دی جا سکی ہے۔
ماسلن نے مزید کہا کہ آبادی میں یہ نمایاں کمی انسانی المیے کی سنگینی کا خطرناک اشارہ ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اگرچہ ان اندازوں کی آزادانہ تصدیق کی ضرورت ہے لیکن اگر یہ درست ثابت ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ جانی نقصان کی اصل شرح سرکاری طور پر اعلان کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی تناظر میں انہوں نے توجہ دلائی کہ بنیادی ڈھانچے، گھروں اور اہم تنصیبات کی ہولناک تباہی کو مدنظر رکھتے ہوئے قطاع غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے برسوں کی مسلسل محنت اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
سیز فائر معاہدے کے باوجود غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ خوراک، پانی، پناہ گاہوں اور طبی سہولیات کی شدید قلت کے باعث انسانی صورتحال کے مزید ابتر ہونے کی وارننگز دی جا رہی ہیں اور مقامی آبادی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے مسلسل تڑپ رہی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72 ہزار 45 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار 686 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں 8 شہداء لائے گئے جن میں سے 3 کو ملبے تلے سے نکالا گیا تھا، اس کے علاوہ 20 زخمی بھی ہسپتال پہنچے۔
وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے نافذ العمل سیز فائر معاہدے کی قابض اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 591 اور زخمیوں کی تعداد 1578 ہو گئی ہے۔ تاحال متعدد متاثرین ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں کیونکہ ایمبولینس اور دفاع مدنی کے عملے کو ان تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔