قنیطرہ/درعا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے جنوبی شام بالخصوص قنیطرہ اور درعا کے دیہی علاقوں میں اپنی دراندازی کی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی شہریوں کی گرفتاریاں، فصلوں کی تباہی اور خطے میں فوجی چوکیاں قائم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
شامی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کی شام پہلے روشنی کے گولے (فلیئر گنز) فائر کیے اور اس کے بعد 60 سے زائد اہلکاروں اور 15 فوجی گاڑیوں کے ساتھ قنیطرہ کے دیہی علاقے میں واقع گاؤں اوفانیا میں دراندازی کی۔
یہ فوجی نقل و حرکت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ سنہ 2026ء 6 جنوری کو امریکہ کی نگرانی میں شام اور قابض اسرائیل کے درمیان معلومات کے تبادلے، فوجی کشیدگی میں کمی، سفارتی روابط اور تجارتی مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک رابطہ میکانزم (آلیہ اتصال) کی تشکیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
قابض اسرائیلی فوج تقریباً روزانہ کی بنیاد پر شامی سرزمین پر بمباری اور زمینی دراندازی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دمشق کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات معاشی اور سکیورٹی حالات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل سنہ 1967ء سے شامی گولان کی پہاڑیوں کے زیادہ تر حصے پر قابض ہے اور اس نے سنہ 2024ء 8 دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سنہ 1974ء میں طے پانے والے فوجی علیحدگی کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا اور شام کے بفر زون (غیر فوجی علاقے) پر قبضہ کر لیا۔
شام اپنی سرزمین سے قابض افواج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ جنوبی شام میں قابض اسرائیل کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق باطل اور کالعدم ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
