Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی اقدامات سے فلسطینی معیشت کو 9 ارب ڈالر کا نقصان

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)  فلسطین کی جنرل فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز، بین الاقوامی مزدور یونینوں کے تعاون سے قابض اسرائیلی حکام سے ان 2 لاکھ 25 ہزار فلسطینی مزدوروں کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو سنہ 2023 کے اکتوبر میں غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سنہ 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنے روزگار سے محروم کر دیے گئے تھے۔

یونین کے تخمینے کے مطابق قابض اسرائیل کے اندر کام کرنے والے مزدوروں کی بے دخلی سے دو سالہ جنگ کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے میں قابض دشمن کی جابرانہ پالیسیوں کے نتیجے میں 47 مزدور شہید جبکہ ہزاروں زخمی اور گرفتار ہوئے۔

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) میں جمع کرائی جانے والی اس فائل میں مزدوروں کی واجب الادا اجرتوں، اینڈ آف سروس واجبات اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل قانونی حقوق کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔

یونین کے سیکرٹری جنرل شاہر سعد نے روزگار سے محروم ہونے والے مزدوروں کی حالتِ زار کو ہر لحاظ سے “تباہ کن” قرار دیا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حکومتی امداد کی عدم دستیابی اور بحران کی شدت کے مقابلے میں یونینوں کے پاس مالی وسائل کی کمی کے باعث انہیں مدد کے لیے سینکڑوں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔

شاہر سعد نے “العربی الجدید” سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یونین نے نقصانات کے اعداد و شمار پر مبنی ایک مکمل فائل انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کو پیش کر دی ہے۔ یہ اقدام عالمی یونینوں کے وفود کے دورہ فلسطین اور متاثرہ مزدوروں سے ملاقاتوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں عالمی ادارہ محنت کے سامنے فلسطینی مزدوروں کے معاوضے کے لیے مقدمہ دائر کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

شاہر سعد کے مطابق اس فائل میں ان 2 لاکھ 25 ہزار مزدوروں کے معاوضے کا مطالبہ شامل ہے جن کا کام بند کر دیا گیا تھا، جس سے جنگ کے دوران کم از کم 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ فلسطین کو عالمی ادارے کی مکمل رکنیت حاصل نہیں، اس لیے بین الاقوامی نقابتی تعاون کو متحرک کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ علاقوں میں کام کرنے والے فلسطینی مزدوروں کی ماہانہ اجرت کا تخمینہ 1.35 ارب شیکل تھا، جو مغربی کنارہ کے سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کی مجموعی تنخواہوں سے بھی زیادہ ہے، جو معاشی اثرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

شاہر سعد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قابض حکام ان اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور انہیں ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قابض انتظامیہ نے حال ہی میں انٹرنیشنل یونین آف بلڈنگ اینڈ ووڈ ورکرز کے وفد کو فلسطین میں داخل ہونے سے روک دیا، جو دنیا بھر کے 3 کروڑ مزدوروں کی نمائندگی کرتی ہے اور جس نے عالمی فورمز پر فلسطینیوں کے ہرجانے کی فائل اپنائی ہوئی ہے۔

شکایت درج کرانے والی یونینز نے قابض اسرائیل پر اجرتوں کے تحفظ کے معاہدہ نمبر (95) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے جس کی قابض اسرائیل نے سنہ 1959 میں توثیق کی تھی۔ اس شکایت کا بنیادی محور ہزاروں مزدوروں کی واجب الادا اجرتوں اور مراعات کی عدم ادائیگی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan