جکارتہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انڈونیشیا نے دنیا کے شورش زدہ اور تنازعات کے شکار علاقوں بشمول غزہ کی پٹی میں اپنی مسلح افواج کے 8 ہزار تک اہلکار تعینات کرنے کی تیاریاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انڈونیشیائی خبر رساں ایجنسی “أنتارا” نے مسلح افواج کے سربراہ مارولی سیمانیونتاک کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان فورسز کی تعیناتی سے متعلق تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جنہیں روانہ کیا جانا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ تعیناتی کے مقامات یا تاریخوں کا ابھی حتمی طور پر تعین نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجیوں کی تعداد کے بارے میں مشاورت ابھی جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد 5 سے 8 ہزار اہلکاروں کے درمیان ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ انڈونیشیا پہلا ملک ہو سکتا ہے جو غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے تحت اپنی فوجی فورس تعینات کرے، یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ پٹی میں قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
گذشتہ پیر کو قابض اسرائیل کے نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ غزہ پٹی میں ہزاروں انڈونیشیائی فوجیوں کی آمد کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
سنہ 16 جنوری کو وائٹ ہاؤس نے غزہ میں عبوری مرحلے کے انتظامی ڈھانچے کی منظوری کا اعلان کیا تھا، جس میں “امن کونسل”، “غزہ ایگزیکٹو کونسل”، “نیشنل کمیٹی فار مینجمنٹ آف غزہ” اور “بین الاقوامی استحکام فورس” شامل ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق یہ بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں سکیورٹی آپریشنز کی قیادت، اسلحہ سے پاک کرنے (ڈی ملٹرائزیشن) اور پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور تعمیر نو کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہو گی۔
گذشتہ اتوار کو حماس کے بیرون ملک کے سربراہ خالد مشعل نے کہا تھا کہ فلسطینی قوم اب دوسرے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں اسلحہ سے پاک کرنے، بین الاقوامی افواج، نام نہاد “امن کونسل” اور قابض اسرائیل کے یلو لائن (پیلی لائن) سے غزہ پٹی کے باہر تک انخلاء جیسے بڑے سوالات شامل ہیں۔
خالد مشعل نے سترہویں الجزیرہ فورم میں شرکت کے دوران وہ پیش کیا جسے انہوں نے “ضمانتوں کا نقطہ نظر” قرار دیا، جہاں تحریک نے 5 سے 10 سال کی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، جس کے دوران نہ تو اسلحہ استعمال کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نمائش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ “اسلحہ سے پاک کرنے کی بات کرنا ہمارے عوام کو ایک ایسا لقمہ بنانے کی کوشش ہے جسے ہر قسم کے بین الاقوامی ہتھیاروں سے لیس قابض اسرائیل کے لیے ختم کرنا اور اس کی نسل کشی کرنا آسان ہو جائے”۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ثالث (ترکیہ، مصر اور قطر) اسلحے کے حوالے سے حماس کے پیش کردہ نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثالث ضمانت بن سکتے ہیں، “اسی طرح امن برقرار رکھنے کے لیے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ علاقوں کے درمیان حائل سکیورٹی باڑ پر بین الاقوامی افواج کی موجودگی ایک اور ضمانت ہے”۔
واضح رہے کہ اسلحہ سے پاک کرنے کا مسئلہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جسے سنہ 17 نومبر 2025ء کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کی حمایت حاصل ہے۔
