Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کے سفری دستاویزات ضبط کیے جانے کی رپورٹس

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سابق فلسطینی سفیر عدلی صادق نے انکشاف کیا ہے کہ قاہرہ میں قائم فلسطینی سفارت خانے نے غزہ پٹی کے ان ملازمین کے پاسپورٹ تجدید کے بعد واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے جنہوں نے اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی حکومت کے تحت خدمات سرانجام دی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ظالمانہ فیصلے کی زد میں ان ملازمین کے اہل خانہ بھی آ رہے ہیں۔

عدلی صادق نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ پاسپورٹ کی فراہمی پر یہ پابندی رام اللہ میں قائم ایک سکیورٹی کمیٹی کے حکم پر لگائی گئی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو آئینی، قومی، سماجی اور انسانی لحاظ سے ایک بڑی خرابی اور ناانصافی قرار دیا۔

سابق سفیر کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ذاتی مراسلت کی تصویر کے مطابق یہ فیصلہ لگ بھگ سات ماہ قبل صادر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد رام اللہ کی سکیورٹی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں غزہ حکومت کے ملازمین کو پاسپورٹ کی حوالگی سے روکنا ہے۔

مراسلہ بھیجنے والے شہری نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کے اثرات صرف غزہ کی پٹی کے رہائشیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ بیرون ملک مقیم ملازمین بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ پاسپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ عملی طور پر سفر کرنے، بینک اکاؤنٹس کھلوانے یا جن ممالک میں وہ مقیم ہیں وہاں اپنے قانونی معاملات مکمل کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم بعض ملازمین کو اب ممکنہ قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے کیونکہ کارآمد پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی قانونی حیثیت غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے اور انہیں میزبان ممالک کے حکام کے سامنے مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ سفارت خانے میں اپنایا جانے والا طریقہ کار یہ ہے کہ جب شہری رجوع کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے پاسپورٹ آ چکے ہیں، لیکن جب وہ وصول کرنے پہنچتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر انکار کر دیا جاتا ہے کہ سکیورٹی کلاز کی وجہ سے وہ پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا اندراج غزہ حکومت کے ملازمین کے طور پر کیا گیا ہے۔

عدلی صادق نے ان اقدامات کو آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض روزی روٹی کی تلاش میں سرکاری ملازمت کرنے والے شہریوں سے انتقام لینا نہ تو کسی ریاست کا شیوہ ہے اور نہ ہی یہ کسی قومی تحریک کا فعل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شہریوں کے شناختی حقوق پر شب خون مارنا داخلی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پیچیدہ بحرانوں کو جنم دیتا ہے، کیونکہ اس طرز عمل کے نتائج لوگوں کی پہلے سے تلخ زندگیوں میں مزید مصائب اور پریشانیاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

سابق فلسطینی سفیر نے توجہ دلائی کہ ان اثرات سے شہریوں کی نقل و حرکت، سفر اور کام کرنے کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے، اور ان سے قانونی چھتری اور شہریت چھین کر انہیں اور ان کے خاندانوں کو میزبان ممالک میں سنگین قانونی مسائل سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

صادق نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے ساتھ روا رکھی جانے والی اس خفت اور حماقت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاسپورٹ رکھنے کا آئینی حق کسی سیاسی دشمنی کی نذر نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی اس کے اثرات ان خاندانوں تک پھیلنے چاہئیں جن کا کسی سیاسی تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

سابق سفیر نے بتایا کہ انہیں اس نوعیت کی شکایات ایک سے زائد ممالک میں مقیم شہریوں کی جانب سے موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ سرکاری حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی حقیقت واضح کریں تاکہ فلسطینی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک واضح موقف اپنایا جا سکے۔

گذشتہ جنوری کے وسط میں غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے بھی اطلاع دی تھی کہ اسے مختلف ممالک میں مقیم غزہ کے فلسطینیوں کی جانب سے کثیر تعداد میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی سفارت خانے اور سفارتی مشن نام نہاد سکیورٹی پابندی کے بہانے ان کے پاسپورٹ جاری کرنے یا تجدید کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

مرکز نے ایک بیان میں ایسے متعدد کیسز کا ذکر کیا جن میں طلبہ اور مریضوں کے لیے سفر کرنا یا اقاموں کی تجدید کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ اقدامات بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں کیونکہ شہریوں کو ان کی سرکاری دستاویزات سے محروم کرنا ان کے سفر، نقل و حرکت، رہائش، ملازمت اور علاج کے حق کو سلب کرنے کے مترادف ہے، جبکہ اس سے ان کے جبری اخراج کا خطرہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔

مرکز نے تصدیق کی کہ اس نے ایسے طلبہ کے کیسز دستاویزی شکل میں محفوظ کیے ہیں جنہیں رہائش اور تعلیم کے عمل کو مکمل کرنے سے روک دیا گیا، نیز ایسے مریض جو علاج کے لیے سفر کرنے سے قاصر ہیں اور وہ خاندان جو کارآمد دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے بے یار و مددگار ہو چکے ہیں۔

مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ممارست انسانی حقوق کی پامالی ہے جو شہریوں کو ان کی بنیادی دستاویزات سے محروم کر کے انہیں قانونی اور انسانی خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔

رام اللہ کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کو پاسپورٹ سے محروم رکھنے کا یہ سلسلہ سنہ 2007ء سے جاری ہے، جس کا نشانہ خاص طور پر وہ ملازمین بنتے ہیں جنہوں نے غزہ کے سرکاری اداروں میں کام کیا ہے۔

پاسپورٹ ایک خود مختار دستاویز اور بنیادی عوامی خدمت ہے جسے داخلی سیاسی کھینچا تانی کی بھینٹ چڑھانا کسی صورت جائز نہیں۔ فلسطینی انسانی حقوق کے اداروں نے متعدد بار مطالبہ کیا ہے کہ داخلی سیاسی اختلافات اور بنیادی شہریت کے حقوق کو الگ رکھا جائے، اور خبردار کیا ہے کہ قونصلر خدمات کی سیاست کاری شہریوں کے لیے سنگین قانونی اور انسانی خطرات پیدا کر رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan