Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں 2842 سے زائد شہداء کا کوئی سراغ نہ ملا

غزہ –  (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک تحقیقاتی دستاویزی پروگرام “للقصۃ بقیہ” نے فیلڈ شہادتوں اور سرکاری رپورٹس کے ذریعے ایسے لرزہ خیز حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جو غزہ کی پٹی میں ہزاروں شہداء کے جسدِ خاکی کے غائب ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے عالمی سطح پر ممنوعہ ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جن کے تباہ کن حرارتی اور خلائی اثرات انسانی اجسام کو بھاپ بنا کر اڑا دیتے ہیں۔

الجزیرہ پر نشر ہونے والی “المتبخرون” (بھاپ بن جانے والے) نامی اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غزہ میں سول ڈیفنس کی رپورٹس اور طبی عملے سمیت متاثرہ خاندانوں کی شہادتوں سے ثابت ہوا ہے کہ سنہ 2023ء سے جاری اس سفاکیت میں 2842 سے زائد ایسے شہداء ہیں جن کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ ان کے نشانہ بننے والے مقامات پر خون کی چھینٹوں یا انتہائی معمولی انسانی باقیات کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حملے ایسے حرارتی اور خلائی دھماکا خیز مواد سے کیے گئے جو 3500 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس قدر شدید تپش اور ہولناک دباؤ انسانی جسم میں موجود مائعات کو بھاپ بنا دیتا ہے اور انسانی خلیوں کو راکھ میں بدل دیتا ہے۔

تحقیقات میں انسانی دلوں کو چیر دینے والی شہادتیں پیش کی گئیں جن میں شہری رفیق بدران کی گواہی بھی شامل ہے۔ رفیق نے بتایا کہ درجنوں گھروں کو تباہ کرنے والی شدید بمباری میں اس کے چار بچے لقمہ اجل بنے لیکن اسے ان کا جسم نہیں ملا بلکہ صرف “کالی ریت” اور بکھری ہوئی کچھ ہڈیاں ہی مل پائیں۔

اسی طرح شہید سعد کی والدہ یاسمین نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے جسدِ خاکی کی تلاش میں ہسپتالوں، سرد خانوں اور مساجد کے چکر کاٹتی رہیں، لیکن مشرقی غزہ کے محلے الدرج میں واقع التابعین سکول پر ہونے والے حملے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا لختِ جگر مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے۔

غزہ میں سول ڈیفنس کے ترجمان میجر محمود بصل نے تصدیق کی کہ ان کی ٹیموں کو بارہا ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جہاں گھروں میں موجود افراد کی تعداد متعین تھی لیکن ملبے سے ملنے والے اجسام کی تعداد اس سے کہیں کم تھی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ کچھ اجسام مکمل طور پر “بھاپ بن گئے”، جو کہ اس جنگ سے قبل فیلڈ ورک میں تصور سے باہر کی بات تھی۔

تکنیکی حوالے سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق چیف انسپکٹر یسری ابو شادی سمیت دیگر ماہرین نے بتایا کہ انتہائی درجہ حرارت اور بلند دباؤ کے حامل یہ ہتھیار انسانی خلیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یسری ابو شادی کے مطابق اجسام کے بھاپ بننے کا یہ رجحان کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ امریکی عراق پر چڑھائی کے دوران سنہ 2004ء اور سنہ 2005ء میں فلوجہ کی لڑائیوں میں بھی دیکھا گیا تھا، جہاں قابض امریکہ نے ایسے ہتھیار استعمال کیے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسی طرز کی تکرار اس مفروضے کو مضبوط کرتی ہے کہ قابض اسرائیل عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جنہیں بنیاد بنا کر قابض حکام کے خلاف جنگی جرائم کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

غزہ میں وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے اشارہ کیا کہ چونکہ انسانی جسم کا تقریباً 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے شدید تپش اور ہائی پریشر اس کے مکمل بخارات بننے کا براہِ راست سبب بنتا ہے۔

تحقیق میں ان ہتھیاروں کی نشاندہی بھی کی گئی جن میں امریکہ کے تیار کردہ “ایم کے 84” (جسے ہتھوڑا کہا جاتا ہے)، “بی ایل یو 109” ، “جی بی یو 39” گائیڈڈ بم اور ہیل فائر میزائل شامل ہیں۔ یہ وہ گولہ بارود ہے جو بند جگہوں کے اندر ہولناک حرارت پیدا کرتا ہے۔

سائنسی مطالعوں کے مطابق یہ حرارتی ہتھیار روایتی بموں سے 5 گنا زیادہ طاقتور ہوتے ہیں جو تین مراحل میں قتل کرتے ہیں، پہلے انتہائی شدید حرارتی لہر، پھر دباؤ کی لہریں اور آخر میں ایک آگ کا گولا جو بند جگہوں میں پھیل کر ہر چیز کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے۔

قانونی طور پر گنجان آباد علاقوں میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ قابض اسرائیل ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کرتا ہے، لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں نے ماضی میں غزہ میں ان کے استعمال کو دستاویزی شکل دی ہے۔

رواں سال کے آغاز پر سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل رائد الدھشان نے بتایا کہ 10 ہزار فلسطینی شہداء اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں کیونکہ قابض اسرائیل بھاری مشینری کی آمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

وزارتِ صحت کی پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 8 اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی قابض اسرائیل کی اس نسل کشی میں شہداء کی تعداد 72 ہزار 32 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار 661 ہو چکی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan