لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی بینڈ “بوب فیلان” نے ایک بار پھر عوامی ہجوم کے بھرپور جوش و خروش کے درمیان “قابض اسرائیلی فوج مردہ باد” کے نعرے لگائے ہیں۔
لندن کے مشہور پنک ریپ جوڑی کے رکن اور برطانوی موسیقار بوب فیلان نے گذشتہ جمعرات کی شام “مانچسٹر اکیڈمی” ہال میں ایک عوامی کنسرٹ منعقد کیا، جس کے دوران انہوں نے حاضرین کے ساتھ مل کر وہی نعرہ دہرایا جس نے پہلے ہی قابض اسرائیل میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑا دی تھی۔
اس نعرے کی بازگشت نے اس سیاسی اور قانونی تنازع کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو گذشتہ کئی ماہ سے اس بینڈ کا پیچھا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک فیلان کو اپنی سرزمین پر شوز کرنے سے روک چکے ہیں۔
کنسرٹ کے دوران بوب فیلان نے تماشائیوں کے ساتھ مل کر یہ نعرہ بلند کیا، جو بالکل اسی منظر کی تکرار تھی جو گذشتہ جون میں “گلاسٹنبری” فیسٹیول کے دوران پیش آیا تھا۔ اس وقت بی بی سی (BBC) پر براہِ راست نشریات کے دوران انہوں نے ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے یہی نعرہ لگایا تھا، جس کے نتیجے میں اس کارکردگی پر باقاعدہ فوجداری تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔
مانچسٹر کا یہ کنسرٹ واضح احتجاجی رنگ لیے ہوئے تھا، جو مہینوں کے سیاسی دباؤ اور بینڈ کو شوز سے روکنے کی کوششوں کے بعد منعقد ہوا۔ اس شو کو حکومتی عہدیداروں اور پریشر گروپس کے لیے ایک براہِ راست چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، جن میں “جیوش ریپریزنٹیٹو کونسل” (JRC) بھی شامل ہے، جو قابض اسرائیلی فوج کے خلاف بینڈ کے بیانیے کی وجہ سے ان کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
(ہم خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے) نامی اس ٹور کے تحت کنسرٹ کی اصل تاریخ نومبر سنہ 2025ء مقرر تھی، تاہم بینڈ کے بقول حکومتی عہدیداروں اور مقامی گروہوں کی جانب سے “سیاسی دباؤ کی لہر” کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
آکسفورڈ روڈ پر واقع “مانچسٹر اکیڈمی” کے اطراف میں ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھے گئے، کیونکہ گریٹر مانچسٹر کی جیوش ریپریزنٹیٹو کونسل اور متعدد مقامی ارکانِ پارلیمنٹ اس شو کی شدید مخالفت کر رہے تھے۔
کنسرٹ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ہجوم نے یک زبان ہو کر “قابض اسرائیلی فوج مردہ باد” کے نعرے لگائے۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور ایک بار پھر بینڈ کے گرد بحث کا مرکز بننے کے ساتھ ساتھ ان کے مداحوں کی نظر میں غزہ کی حمایت کی علامت بن گیا۔
اس بحران کی جڑیں “گلاسٹنبری فیسٹیول سنہ 2025ء” سے جڑی ہیں، جب بینڈ نے پہلی بار براہِ راست نشریات میں یہ نعرہ لگایا تھا، جسے وسیع سیاسی مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس وقت اس بیانیے کو “خوفناک” قرار دیا تھا، جبکہ رپورٹوں کے مطابق وزیر تعلیم برجٹ فلپسن نے مانچسٹر یونیورسٹی پر (جس کے ماتحت یہ ہال آتا ہے) دباؤ ڈالا تھا کہ وہ بینڈ کی میزبانی کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
نتائج صرف سیاسی حد تک محدود نہیں رہے بلکہ بینڈ کو “بے دخلی” کا بھی سامنا کرنا پڑا، جب ان کی نمائندگی کرنے والی بڑی ٹیلنٹ ایجنسی (UTA) نے ان سے ناتا توڑ لیا، اور ان کے امریکی ویزے بھی منسوخ کر دیے گئے، جس کے باعث وہ عملی طور پر امریکہ اور کینیڈا میں فنی دورے کرنے سے محروم ہو گئے ہیں۔
