Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے لیے پھانسی گھاٹ تیار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی کلب برائے اسیران نے کہا ہے کہ اسرائیلی چینل 13 کی جانب سے قیدیوں کے خلاف سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے جیل انتظامیہ کی تیاریوں کے انکشافات ایک انتہائی خطرناک مرحلے کا پیش خیمہ ہیں، جو اسیران کے خلاف جاری نسل کشی کی مہم کا عروج ہے۔

کلب برائے اسیران نے ایک بیان میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل اس قانون کی حتمی منظوری کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کا اس معاملے پر مجرمانہ گٹھ جوڑ اور ہزاروں قیدیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی واضح ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل کے یہ اقدامات اسیران سے انتقام لینے کو قانونی رنگ دینے کی پالیسی کا حصہ ہیں تاکہ جیلوں کے اندر جبر و تشدد کے ڈھانچے میں بے مثال اضافہ کیا جا سکے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا کی جا رہی ہے جب فلسطینی قیدیوں کے لیے قانونی اور بین الاقوامی تحفظ کی سطح میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔

اسرائیلی چینل 13 نے رپورٹ دی تھی کہ قابض جیل انتظامیہ نے گذشتہ چند دنوں کے دوران اس قانون پر عمل درآمد کے لیے خصوصی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جسے کنیسٹ میں پہلی ریڈنگ میں منظور کیا جا چکا ہے۔ ان تیاریوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ایک مخصوص کمپلیکس کا قیام، ضروری طریقہ کار وضع کرنا اور مخصوص عملے کو اس کے طریقہ کار پر تربیت دینا شامل ہے، جس کے لیے دیگر ممالک کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قابض جیلوں کے نظام کے اندر اس نئے کمپلیکس کو گرین کوریڈور اسرائیل کا نام دیا جائے گا، جہاں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد تین گارڈز کے ذریعے کیا جائے گا جو بیک وقت آپریٹنگ بٹن دبائیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ حتمی عدالتی فیصلے کے اجرا کے 90 دنوں کے اندر سزا پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔

چینل نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس قانون کا اطلاق اسلامی تحریکِ مزاحمت حماس کے ا ایلیٹ بریگیڈز کے ان اسیران سے شروع کیا جائے گا جن پر قابض اسرائیل سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے میں شرکت کا الزام لگاتا ہے، جبکہ بعد ازاں اس کا دائرہ کار ان اسیران تک پھیلا دیا جائے گا جنہیں قابض دشمن مغربی کنارے میں کارروائیاں کرنے کا مجرم قرار دیتا ہے۔

چند روز قبل اقوام متحدہ کے 12 ماہرین نے قابض اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ مبینہ دہشت گردانہ کارروائیوں پر سزائے موت دینے کے بل کو واپس لے، اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی قانون بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan