غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے مسلسل 121 ویں روز بھی غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس کے دوران مختلف علاقوں میں دھماکوں، فضائی و توپ خانہ بمباری، جنگی طیاروں کی شدید پروازوں اور بحری جہازوں سے فائرنگ کی جارہی ہے۔
غزہ شہر میں قابض افواج نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون میں اپنی موجودگی کے دوران متعدد عمارتوں کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا، اس کے ساتھ ہی محلے پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی، جبکہ شہر کے مشرقی حصوں میں بارود سے بھرے روبوٹس اور مزید عمارتوں کو منہدم کرنے کے نتیجے میں زوردار اور پے در پے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
غزہ پٹی کے جنوب میں قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں پر فضائی حملے کیے، اس دوران جنوبی غزہ کی فضاؤں میں جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی جاری رہیں۔
قابض افواج نے میدانی کشیدگی کو بڑھاتے ہوئے خان یونس شہر کے مشرق میں کئی رہائشی عمارتوں کو بھی بارود سے اڑا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے جنوبی غزہ پٹی میں خان یونس کے سمندر میں اندھا دھند فائرنگ کی۔
گذشتہ روز اتوار کو سیز فائر معاہدے کی ان اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں فضائی و توپ خانہ بمباری اور مختلف مقامات پر نشانہ بنائے جانے کے باعث 6 شہری اسرائیلی گولیوں کا شکار ہو کر جامِ شہادت نوش کر گئے۔
یہ تمام تر صورتحال غزہ پٹی پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور جاری نسل کشی کا حصہ ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ 8 ہزار سے زائد افراد لاپتہ، لاکھوں بے گھر اور بدترین قحط کا شکار ہیں جس نے بچوں سمیت کئی شہریوں کی زندگی کے چراغ گل کر دیے ہیں، جبکہ پورے غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلی ہوئی ہے۔
