Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے کو قانونی تحفظ، نئی بستیوں کے لیے بل منظور

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی سیاسی و سکیورٹی امور کی مختصر کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق نئے فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تجاویز قابض وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی جانب سے پیش کی گئی تھیں، جن کا مقصد مقبوضہ علاقوں میں اراضی کے انتظام، منصوبہ بندی اور تعمیرات کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق ان فیصلوں کا مقصد ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو قابض حکومت کے بقول دہائیوں سے حائل تھیں، تاکہ بستیوں کی تعمیر و توسیع کے منصوبوں کو تیز کیا جا سکے۔ ان اقدامات میں اس اردنی قانون کی منسوخی بھی شامل ہے جو مغربی کنارے میں یہودیوں کو جائیدادوں کی فروخت سے روکتا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قدم سے اراضی کی خریداری کے عمل میں وسعت آئے گی۔

دونوں وزراء نے اعلان کیا کہ کابینہ نے مغربی کنارے میں اراضی کے ریکارڈ سے خفیہ حیثیت ختم کرنے اور انہیں عوامی سطح پر شائع کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو کئی دہائیوں سے پوشیدہ رکھے گئے تھے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام سے شفافیت بڑھے گی اور زمینوں کی رجسٹریشن اور خریداری میں آسانی ہوگی۔

کونسل نے خلیل شہر کے اندر موجود بستیوں، بشمول حرمِ ابراہیمی اور دیگر مذہبی مقامات پر تعمیراتی لائسنس کے اختیارات بلدیہ خلیل سے چھین کر سول ایڈمنسٹریشن کے منصوبہ بندی کے اداروں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تبدیلی سے فلسطینیوں کی منظوری کے بغیر تعمیراتی منصوبوں پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا اور سول ایڈمنسٹریشن کو آباد کاروں کے معاملات براہِ راست حل کرنے کے لیے مکمل بلدیاتی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

ان فیصلوں میں “اراضی خریداری کمیٹی” کو دوبارہ فعال کرنا بھی شامل ہے، جس نے تقریباً بیس سال قبل کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کمیٹی کی بحالی سے مغربی کنارے میں زمینوں کی براہِ راست خریداری کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے گا۔

قابض فوج کے وزیر یسرائیل کاٹز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات “مغربی کنارے میں اسرائیلی گرفت کو مضبوط کریں گے”، جبکہ وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے عزم ظاہر کیا کہ “حکومت زمین پر اسرائیلی تسلط کو مزید گہرا کرنا جاری رکھے گی”۔

واضح رہے کہ مغربی کنارہ سنہ 1948ء سے سنہ 1967ء کی جنگ (نکسہ) تک اردن کی خودمختاری میں رہا، جس کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے، مشرقی بیت المقدس اور شام کی گولان کی پہاڑیوں پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan