Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصی کے اراضی اور عبادت پر اسرائیلی قبضے کے نئے احکامات

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی سے بے دخلی کے نئے ظالمانہ احکامات جاری کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، جن کی زد میں متعدد فلسطینی شہری آئے ہیں۔

بیت المقدس کے ذرائع کے مطابق قابض حکام نے الطور قصبہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان احمد مرار، سلوان قصبہ کے محمد جبر العباسی، سابق اسیرِ رمزی العباسی اور نضال ابو حسین کو ایک ہفتے کے لیے مسجد اقصی سے بے دخلی کے احکامات تھما دیے ہیں، جبکہ ان احکامات کی مدت ختم ہونے پر ان میں توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی تسلسل میں قابض حکام نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں برکات اور محمد الزعتری کو چھے ماہ کے لیے مسجد اقصی سے بے دخل کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔

دوسری جانب قابض حکام نے نامور مرابطہ خاتون ہنادی الحلوانی کو القشلہ پولیس سینٹر میں تفتیش کے لیے طلب کیا، جہاں انہیں قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کے دستخط شدہ احکامات موصول ہوئے جن کے تحت ان کے فلسطین سے باہر سفر کرنے پر 2 مارچ تک پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس پابندی کے لیے ہمیشہ کی طرح یہ مضحکہ خیز بہانہ تراشا گیا ہے کہ ان کا سفر قابض اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ تمام اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب قابض حکام نے ماہِ رمضان کے قریب آتے ہی مسجد اقصی کے مستقل نمازیوں اور عقیدت مندوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں مختلف دورانیوں کے لیے قبلہ اول سے دور کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ بیت المقدس کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام ہتھکنڈوں کا اصل مقصد مسجد اقصی کو نمازیوں سے خالی کرانا ہے تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی مذہبی شناخت مٹانے کا راستہ صاف کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan