Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

خاص خبریں

دنیا بھر میں غزہ کی حمایت میں مظاہرے، اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) دنیا بھر میں غزہ کے حق میں جاری عالمی عوامی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں تین مسلسل دنوں پر مشتمل سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔ یہ سرگرمیاں جمعہ 6 فروری، ہفتہ 7 فروری اور اتوار 8 فروری سنہ 2026 کو منعقد کی جائیں گی جن میں دنیا کے مختلف خطوں سے کارکنان اور یکجہتی کا اظہار کرنے والے افراد نے وسیع پیمانے پر شرکت کریں گے۔ اس تحریک کا مقصد عالمی خاموشی کو توڑنا اور جاری حملوں و خلاف ورزیوں کے تناظر میں غزہ کی آواز دنیا تک پہنچانا ہے۔

یہ عالمی تحریک قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافے پر بڑھتے عوامی غصے کے ساتھ ہم آہنگ کوشش ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری حملوں اور جیلوں میں فلسطینی اسیران کے خلاف منظم اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا۔

ہیئۃ علماء فلسطین نے عرب و اسلامی دنیا کے عوام اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں سے اپیل کی کہ ہر ہفتے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مستقل عالمی عوامی سرگرمیوں کے دن کے طور پر اپنایا جائے، تاکہ عوامی، حقوقی اور میڈیا دباؤ کو برقرار رکھا جا سکے اور غزہ کا مسئلہ عالمی شعور میں نمایاں رہے۔

مہم کی سرگرمیوں میں یکجہتی مارچ، سفارت خانوں اور سفارتی مشنز کے دفاتر کے سامنے دھرنے، عوامی چوکوں اور میدانوں میں اجتماعات، فلسطینی پرچم اور غزہ کے حق میں نعروں کی نمائش شامل تھی۔ اس کے علاوہ متعدد ممالک میں ہڑتالیں اور احتجاجی پروگرام بھی منعقد کیے گئے تاکہ قابض اسرائیل کی حکومت پر منظم عوامی دباؤ ڈالا جا سکے۔

میدانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کارکنان نے بڑے پیمانے پر شرکت کی اپیلیں جاری کیں۔ کارکن معتصم زقوت نے کہا کہ اس تحریک میں شرکت ایک اخلاقی ذمہ داری ہے جس میں تاخیر کی گنجائش نہیں، اور عوام سے خاموشی توڑنے اور عملی طور پر سڑکوں پر آنے کی اپیل کی۔

عثمان الحافی نے ان دنوں کی علامتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار تین ایسے دن ہو سکتے ہیں جو امت کی تقدیر بدل دیں۔ انہوں نے عوام سے سڑکوں، چوکوں اور اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ظلم انسانیت کی آواز کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔

فلسطین سوشیال نامی صفحے نے پلیٹ فارم “ایکس” پر بیان میں کہا کہ دنیا کے مختلف شہروں میں غزہ کے لیے عوام کا سڑکوں پر نکلنا محض نعروں کا اظہار نہیں بلکہ اس احساس کا عکاس ہے کہ خاموشی جرم میں شراکت بن چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک واضح جرم ہے اور آج عوامی آواز کو نظر انداز کرنا کل دنیا سے جواب طلب کرے گا۔

کارکن محمد القاسم نے کہا کہ سڑکوں پر نکلنا محض علامتی یکجہتی نہیں بلکہ جاری جرائم کے خلاف ایک اخلاقی مؤقف ہے۔ ان کے مطابق عوامی آواز ہی وہ مؤثر ذریعہ ہے جو عالمی خاموشی کو توڑ سکتی ہے اور غزہ کے مسئلے کو عالمی سطح پر نمایاں رکھ سکتی ہے۔

تحریک کے منتظمین کے مطابق زمینی اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا مقصد بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے تاکہ قابض اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنے، جنگ بندی معاہدے کی پابندی کرنے، سرحدی گزرگاہیں فوری کھولنے، انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دینے اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو شروع کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

منتظمین نے بتایا کہ یہ سرگرمیاں آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گی، بالخصوص ہر ہفتے کے اختتام پر، تاکہ عالمی سطح پر غزہ کے ساتھ یکجہتی کا دائرہ وسیع ہو اور جارحیت کے خاتمے، محاصرے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی ضمانت تک عوامی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔

غزہ کی پٹی کے سرکاری میڈیا دفتر نے بدھ کے روز بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل کی افواج نے 10 اکتوبر سنہ 2025 سے نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک 1520 خلاف ورزیاں کی ہیں۔

دفتر کے مطابق 115 دنوں کے دوران ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 559 افراد جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے، جو معاہدے کی شقوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی منظم خلاف ورزی قرار دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ قابض اسرائیل 7 اکتوبر سنہ 2023 سے امریکی و یورپی حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جن میں ہلاکتیں، محاصرہ، تباہی، نقل مکانی اور گرفتاریاں شامل ہیں، جبکہ بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ان کارروائیوں کے نتیجے میں 239 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی بتائی جاتی ہے، جبکہ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور غذائی قلت کے باعث متعدد جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ غزہ کے بیشتر شہر اور علاقے وسیع تباہی کا شکار ہوئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan