لیوبلیانا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی سے متعلق عرب و اسلامی رابطہ گروپ کے وزارتی اجلاس میں غزہ میں سیز فائر کو مستحکم بنانے کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا، جب کہ اس کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
یہ مؤقف ایک مشترکہ اعلامیے میں سامنے آیا جو سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ مذاکرات میں مصر، سعودی عرب، اردن اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے سلووینیا کی وزیر خارجہ تانیا فایون سے ملاقات کی۔
مذاکرات میں مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی، سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان، اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی، بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور سلووینیا کی وزیر خارجہ کے ساتھ قطر کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ سلطان المریخی نے بھی شرکت کی۔
وزراء نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے ذرائع کا جائزہ لیا، جس میں سرفہرست غزہ پٹی کی تازہ صورت حال رہی۔ شرکاء نے سیز فائر معاہدے کی مکمل پاسداری، اس کی تمام شقوں کے نفاذ اور محصور غزہ میں وافر اور پائیدار انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ایک واضح سیاسی افق کی جانب پیش رفت پر زور دیا گیا جو چار جون سنہ 1967ء کی سرحدوں پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے پر منتج ہو، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو۔
مباحثوں میں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال بھی زیر بحث آئی، جہاں وزراء نے قابض اسرائیل کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات روکنے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی و مسیحی مقدسات کے خلاف جاری مسلسل جارحیت و بے حرمتی بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء نے خبردار کیا کہ ان خلاف ورزیوں کا تسلسل حالات کو مزید سنگین بناتا اور ہر اس کوشش کو نقصان پہنچاتا ہے جو کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
گذشتہ جنوری کے وسط میں امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ غزہ پٹی سے متعلق ٹرمپ منصوبے کا دوسرا مرحلہ نافذ العمل ہوچکا ہے، حالانکہ قابض اسرائیل نے اسے مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس منصوبے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنا، غزہ کے اندر مزید قابض اسرائیلی انخلا، تعمیر نو کے عمل کا آغاز اور حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
وزراء نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے پر سلووینیا کے مؤقف کو سراہا۔
سنہ 2024ء میں سلووینیا نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا، اس فہرست میں بارباڈوس، جمیکا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، بہاماس، ناروے، آئرلینڈ، اسپین اور آرمینیا بھی شامل تھے۔
چند روز قبل سلووینیا کے وزیر اعظم رابرٹ گولوب نے اعلان کیا کہ ان کا ملک نام نہاد “امن کونسل” میں شرکت نہیں کرے گا، یہ فیصلہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے موصول دعوت کے جواب میں کیا۔
قابض اسرائیل کی جانب سے 8 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پٹی پر مسلط کی گئی نسل کشی کی جنگ، جو دو برس تک جاری رہی، کے نتیجے میں تقریباً 72 ہزار فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جب کہ شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا۔