مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی بلدیہ نے بیت المقدس کے ایک شہری کو مسجد اقصیٰ کے جنوب میں واقع قصبہ سلوان میں اپنے گھر کے ایک کمرے کو جبری طور پر مسمار کرنے پر مجبور کردیا۔
وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر نے بتایا کہ قابض اسرائیلی بلدیہ نے مقدسی شہری جلال الطویل کو قصبہ سلوان کے محلہ البستان میں واقع اپنے گھر سے ملحق ایک کمرے کی خود مسماری پر مجبور کیا، جب کہ جواز یہ گھڑا گیا کہ تعمیر بغیر اجازت نامے کے کیاگیا تھا۔
مرکز کے مطابق یہ مکان تقریباً 40 برس سے قائم تھا، جب کہ مسمار کیے گئے کمرے کا رقبہ 30 مربع میٹر تھا۔
قابض اسرائیلی بلدیہ کی جانب سے اہلیان مقبوضہ بیت المقدس کے خلاف جبری انہدام، گھروں کی پالیسی بدستور جاری ہے، دوسری جانب فلسطینی باشندوں کو تعمیراتی اجازت نامے جاری کرنے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 1100 فلسطینی شہید، 10 ہزار سے زائد زخمی جب کہ 9 ہزار 350 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
