Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

رفح بارڈر پر فلسطینیوں کے ساتھ ناروا سلوک، خوف اور اذیت کی کہانی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے بے گھر، زخم خوردہ اور جنگ کی راکھ سے لوٹنے والے فلسطینی جب رفح کراسنگ کے راستے اپنے اجڑے گھروں کی طرف واپس آنے لگے تو یہ واپسی محض ایک جغرافیائی سفر نہ رہی بلکہ اذیت، تحقیر اور نفسیاتی دباؤ سے بھرپور ایک کٹھن مرحلہ بن گئی۔ بظاہر انسانی راہداری سمجھی جانے والی یہ گزرگاہ واپسی کے آرزو مند فلسطینیوں کے لیے ایک ایسے امتحان میں بدل دی گئی جہاں ہر قدم پر تذلیل اور خوف ان کا منتظر تھا۔

واپس آنے والوں کی جانب سے سامنے آنے والی شہادتوں نے اس عمل کی اصل تصویر بے نقاب کر دی ہے۔ یہ محض کاغذی جانچ یا معمول کی سکیورٹی کارروائی نہ تھی بلکہ ایک منظم، گہری اور کثیر الجہتی تفتیشی مہم محسوس ہوتی تھی جس کا مقصد واپسی کے جذبے کو کمزور کرنا اور فلسطینی کو نفسیاتی طور پر زیر کرنا تھا۔

درد سے لبریز عینی شہادتیں

ایک معمر فلسطینی خاتون کی روداد اس کربناک منظرنامے کی ترجمانی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصری حدود عبور کرنے کے بعد انہیں فوراً غزہ داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی بلکہ قابض اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول مقام پر لے جایا گیا۔ وہاں گھنٹوں جاری رہنے والی سکیورٹی تفتیش، مسلسل سوالات اور خوف زدہ ماحول نے واپسی کی خوشی کو اذیت میں بدل دیا۔

دیگر واپس آنے والوں نے بھی اسی نوعیت کے تجربات بیان کیے۔ ان کے مطابق انہیں بار بار روکا گیا، شناختی معلومات کی باریک بینی سے جانچ کی گئی اور ایسے سوالات کیے گئے جن کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ ذہنی دباؤ بڑھانا تھا۔

تلاشی سے تفتیش تک… نجی زندگی بھی نشانہ

رپورٹس کے مطابق واپس آنے والوں سے ان کے سماجی تعلقات، رشتہ داروں، جنگ کے دوران قیام کی جگہوں اور مزاحمتی حلقوں سے ممکنہ وابستگیوں کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ اس عمل نے فلسطینیوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ اپنے ہی وطن میں داخل نہیں ہو رہے بلکہ کسی مشکوک سرحد سے گزر رہے ہیں جہاں ان کی وفاداریوں تک کو پرکھا جا رہا ہے۔

خصوصاً بزرگوں اور خواتین کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ شدید تکلیف دہ قرار دیا گیا۔ طویل انتظار، سخت لہجہ اور مسلسل نگرانی نے انسانی وقار کو مجروح کیا۔

صہیونی ایجنٹ ملیشیاؤں کا پراسرار اور مکروہ کردار

اس پورے عمل کا سب سے چونکا دینے والا پہلو مقامی مسلح ملیشیاؤں کی موجودگی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ عناصر نہ صرف کراسنگ کے اطراف موجود رہے بلکہ واپسی کے مراحل میں عملی کردار ادا کرتے دکھائی دیے۔

وہ واپس آنے والوں کی نگرانی کرتے، انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتے اور تفتیشی عمل میں معاونت کرتے رہے۔ ان کا انداز تحکمانہ تھا اور رویہ ایسا جس میں ہمدردی کے بجائے برتری اور دھونس کا عنصر نمایاں تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملیشیائیں قابض اسرائیل کی تشکیل کردہ ہیں اور ان کی قیادت ایک مقامی ایجنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ اس انکشاف نے فلسطینی حلقوں میں تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

توہین، دباؤ اور سماجی تعلقات توڑنے کی کوشش

بعض واپس آنے والوں نے انکشاف کیا کہ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ان رشتہ داروں سے تعلقات ختم کریں جن پر مزاحمتی تنظیموں سے وابستگی کا شبہ ہے۔ یہ اقدام محض سکیورٹی کارروائی نہیں بلکہ فلسطینی معاشرتی ڈھانچے میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یوں واپسی کا عمل صرف جسمانی نقل و حرکت نہ رہا بلکہ سماجی اور نفسیاتی انجینئرنگ کا ذریعہ بنتا دکھائی دیا۔

عوامی اور حقوقی حلقوں میں شدید تشویش

ان انکشافات نے فلسطینی عوام، انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کے ساتھ نمٹنے میں غیر سرکاری ملیشیاؤں کی شمولیت انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ان کے مطابق سرحدی گزرگاہوں کو واضح سرکاری اور قانونی نگرانی میں ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے عناصر کے ہاتھوں میں جو جواب دہی کے کسی نظام کے پابند نہیں۔

رفح… بالواسطہ کنٹرول کا تجربہ؟

سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ صورت حال محض عارضی انتظام نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے قابض اسرائیل جنگ کے بعد غزہ پر براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ کنٹرول کا ماڈل آزما رہا ہے۔

مقامی ایجنٹوں اور ملیشیاؤں کے ذریعے نگرانی، دباؤ اور کنٹرول قائم کرنا نہ صرف اخراجات کم کرتا ہے بلکہ داخلی سطح پر تقسیم بھی پیدا کر سکتا ہے۔

نفسیاتی پیغام: واپسی مشروط ہے

ماہرین کے مطابق واپس آنے والے فلسطینی کو ایک واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ غزہ واپسی غیر مشروط حق نہیں بلکہ اطاعت سے جڑی اجازت ہے۔ رفح کراسنگ کو انسانی راہداری کے بجائے چھان بین، درجہ بندی اور وفاداریوں کی تشکیل نو کے مقام میں بدل دیا گیا ہے۔

خاموش دنیا، گہرے ہوتے خدشات

بین الاقوامی نگرانی کے فقدان نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ فلسطینی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرزِ عمل کو نہ روکا گیا تو یہ ماڈل مستقبل میں مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور غزہ کے داخلی نظم و نسق کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

واپسی کی امید یا کنٹرول کا نیا جال؟

رفح کراسنگ سے واپسی کا سفر جو امید، صبر اور اپنی سرزمین سے لازوال محبت کی علامت ہونا چاہیے تھا، اسے تفتیش، تذلیل اور خوف کے مرحلوں میں جکڑ دیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ فلسطینی آج بھی صرف اپنے گھروں کو لوٹنے کے لیے امتحانوں سے گزر رہے ہیں۔ واپسی کا حق بھی دباؤ، شرائط اور نگرانی کے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے۔

اگر اس صورت حال کا بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو خدشہ ہے کہ رفح میں آزمائی جانے والی یہ پالیسی مستقبل میں غزہ کے وسیع تر سماجی اور سکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اور یوں واپسی کا ہر راستہ ایک نئے کنٹرول سسٹم میں بدل سکتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan