غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے بدھ کی شام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 54 فلسطینی شہداء کے اجسادِ خاکی حوالے کر دیے ہیں، یہ اقدام تبادلہ اسیران اور سیز فائر معاہدے کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔
وزارتِ صحت نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ الشفاء ہسپتال میں 54 شہداء کے جسدِ خاکی پہنچے ہیں، اس کے ساتھ ہی 66 ایسے تابوت بھی موصول ہوئے ہیں جن میں انسانی اعضاء اور جسموں کے ٹکڑے (اعضاء کے ڈھیر) موجود ہیں۔ ان شہداء اور انسانی باقیات کو ریڈ کراس کے ذریعے قابض اسرائیل کی جانب سے رہا کیا گیا ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ طبی عملہ منظور شدہ طبی طریقہ کار اور پروٹوکول کے مطابق ان اجسادِ خاکی کے معائنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ متعلقہ کمیٹیوں کے تعاون سے جانچ اور دستاویزی مراحل مکمل کرنے کے بعد انہیں تدفین کے لیے لواحقین کے حوالے کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں غزہ کی پٹی میں وزارتِ صحت کی لاپتہ افراد اور نامعلوم اجسادِ خاکی سے متعلق خصوصی کمیٹی نے پیر کے روز ان پندرہ شہداء کی شناخت کے لیے “کمرہ شناخت” کو متحرک کرنے کا اعلان کیا تھا جن کے اجسادِ خاکی گذشتہ 30 جنوری کو قابض دشمن سے وصول کیے گئے تھے۔
کمیٹی نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس طریقہ کار کا مقصد شہداء کی شناخت کی تصدیق کرنا ہے تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے اور انہیں مکمل احترام و وقار کے ساتھ سپردِ خاک کیا جا سکے۔ کمیٹی نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ شناخت کے عمل میں شرکت کریں تاکہ ان کی تلاش کا کرب ختم ہو سکے اور خاندان اپنے پیاروں کے جسدِ خاکی وصول کر سکیں۔
گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے اب تک قابض اسرائیل 90 اجسادِ خاکی حوالے کر چکا ہے، تاہم اب بھی قابض دشمن کی تحویل میں موجود شہداء کی کل تعداد یا نئی اقساط کی واپسی کے اوقات کے بارے میں کوئی درست معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
غزہ میں سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ فلسطینی مزاحمت نے بھی اپنے قبضے میں موجود زندہ اور مردہ اسرائیلی قیدیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے ذریعے مختلف مراحل میں حوالے کیا ہے، جبکہ قابض اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔
قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کی شقوں کے مطابق، قابض اسرائیل غزہ میں موجود ہر ایک مردہ اسرائیلی قیدی کے بدلے 15 فلسطینی شہداء کے اجسادِ خاکی واپس کرنے کا پابند ہے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیلی حکام اب بھی کم از کم 777 مستند شہداء کے اجسادِ خاکی کو بطور “یرغمالی” اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں تحریکِ اسیران کے 96 شہداء، 18 سال سے کم عمر کے 77 بچے اور 10 خواتین شہداء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کی پٹی کے سیکڑوں دیگر شہداء کے جسدِ خاکی بھی قابض دشمن کے قبضے میں ہیں جن کی شناخت یا قید کے حالات کے بارے میں دشمن کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہا۔
