مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمالی طوباس کے علاقے وادیِ اردن میں وحشی صہیونی آبادکاروں نے ابزیق کے مقام پر واقع “تحدی سکول” پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود تعلیمی سازوسامان کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔ انسانیت سے عاری ان شرپسندوں نے سکول جانے والے راستے کو بھی بلڈوزر کی مدد سے اکھاڑ دیا تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو علم کی شمع روشن کرنے سے روکا جا سکے۔
طوباس میں ڈائریکٹر تعلیم عزمی بلاونہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان غاصب آبادکاروں کی جانب سے اس سکول پر ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انتہا پسندوں نے نہ صرف تعلیمی مواد اور آلات چوری کیے بلکہ پانی، بجلی اور انٹرنیٹ کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا اور راستوں پر پتھر ڈال کر اور زمین کھود کر انہیں آمد و رفت کے لیے بند کر دیا۔
بلاونہ نے خبردار کیا کہ شمالی وادیِ اردن کو اس وقت آبادکاروں کے بدترین حملوں کا سامنا ہے جس کا اصل مقصد فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنا اور انہیں اپنی ہی زمین پر رہنے کے فطری حق سے محروم کرنا ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی حکام نے آج بدھ کے روز آبادکاروں کی دہشت گردی کے حوالے سے کچھ اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن میں مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر ہونے والے حملوں اور اس سلسلے میں گرفتار ہونے والے آبادکاروں کی تعداد بتائی گئی ہے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2026 کے پہلے دو ہفتوں میں صہیونی آبادکاروں نے روزانہ کی بنیاد پر چار دہشت گردانہ حملے کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تحقیقات کی 54 فائلیں کھولی گئیں جو گذشتہ برس کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ 14 مشتبہ آبادکاروں سے تفتیش کی گئی لیکن پولیس نے ان کی گرفتاری کی مدت کے حوالے سے کوئی بھی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا۔
قابض حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں 13 آبادکاروں کے مغربی کنارے میں داخلے پر پابندی کی سفارشات پیش کی ہیں جنہیں “اشتعال انگیز” قرار دیا گیا ہے، تاہم ان کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا گیا۔ یہ سفارشات تبھی نافذ العمل ہوں گی جب قابض اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کمانڈر ابی بلوط ان کی مغربی کنارے سے بے دخلی کے احکامات پر دستخط کرے گا۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں تقریباً 800 آبادکار موجود ہیں جن میں بالغ اور نابالغ دونوں شامل ہیں اور ان میں سے 300 براہِ راست فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
قابض حکام کے اعتراف کے مطابق سنہ 2024 کے مقابلے میں سنہ 2025 میں آبادکاروں کے دہشت گردانہ حملوں میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق 95 فیصد حملے مغربی کنارے کے ان علاقوں (A اور B) میں ہوتے ہیں جہاں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کو روکنے کی ذمہ دار نہیں بلکہ صرف ان کی تفتیش تک محدود ہے۔
