غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے 116 ویں دن بدھ کے روز مشرقی غزہ میں صہیونی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں 7 بچوں اور ایک طبی امدادی کارکن (نرس) سمیت 21 شہری جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ بدھ کی صبح خان یونس کے علاقے مواصی میں نازحین کے خیموں پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید ہوئے، جن میں دو بچیاں رہف اور ریماس رامی ابو جامع اور ایک مسعف حسین السمیری شامل ہیں، جبکہ 12 دیگر شہری زخمی ہوئے۔
ہلال احمر سوسائٹی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے مسعف حسین حسن حسین السمیری اس وقت شہید ہوئے جب وہ خان یونس گورنری میں اپنی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے غزہ شہر کے مشرقی محلے حی التفاح میں گولہ باری کی اور حبوش خاندان کی عمارت کو نشانہ بنایا، جس سے دو بچوں سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔ شہداء میں 13 سالہ ریتال محمود حبوش، 40 سالہ یوسف محمد حبوش، 22 سالہ احمد طلعت حبوش اور 16 سالہ بلال اشرف حبوش شامل ہیں۔
مشرقی غزہ کے اسی محلے حی التفاح میں گذشتہ روز سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مزید 7 شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔
مشرقی غزہ ہی کے محلے حی الزیتون میں قابض اسرائیل کی بمباری سے ایک خاتون اور شیر خوار بچے سمیت تین شہری شہید ہوئے، جن کی شناخت 60 سالہ علی احمد سلمی، 55 سالہ بسینہ محمد عیاد اور محض 5 ماہ کے معصوم بچے صقر بدر الحتو کے نام سے ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں، جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے جنوبی علاقے قیزان ابو رشوان میں شہریوں کے خیموں اور گھروں پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے ایک بچے سمیت تین فلسطینی شہید ہو گئے۔ شہداء میں 21 سالہ محمود ایمن الراس، 28 سالہ سلیمان ابو ستہ اور ان کا 12 سالہ بیٹا فرید شامل ہیں۔
خان یونس ہی میں ابو حداید خاندان کا ایک بچہ قابض اسرائیل کی فائرنگ سے لگنے والے گذشتہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ قابض فوج کی گاڑیوں نے خان یونس کے مشرقی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں شدید فائرنگ کی، جبکہ اسرائیلی بحری جنگی جہازوں نے بھی شہر کے ساحل پر گولہ باری کی۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں “یلو لائن” کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک اسرائیلی افسر شدید زخمی ہو گیا۔ اخبار یدیعوت احرونوت نے اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے 179 بچوں اور 69 خواتین سمیت 553 فلسطینیوں کو شہید اور 1463 کو زخمی کر چکا ہے۔
سنہ 2023ء کے 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس نسل کشی کی جنگ میں اب تک قابض افواج 71,803 سے زائد شہریوں کو شہید اور 171,570 سے زائد کو زخمی کر چکی ہیں، جبکہ 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، جس کی تعمیرِ نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
