غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ کینسر کے مریض بدترین انسانی مصائب کا شکار ہیں اور تخصصاتی نگہداشت کے نظام کی مکمل تباہی کے باعث ان کا مستقبل ایک گہرے اور نامعلوم اندھیرے میں ڈوب چکا ہے۔
کینسر کے عالمی دن کے موقع پر ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے وزارتِ صحت نے بتایا کہ غزہ پٹی میں کینسر کے لگ بھگ 11 ہزار مریض تشخیصی اور علاج کی تخصصاتی سہولیات سے یکسر محروم ہو چکے ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں قریباً 4 ہزار ایسے مریض بھی شامل ہیں جن کے بیرونِ ملک علاج کے اجازت نامے (تحویلات) گذشتہ دو سال سے زائد عرصے سے جاری ہو چکے ہیں، مگر قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل ناکہ بندی اور رفح کراسنگ سمیت دیگر گزرگاہوں کی بندش کی وجہ سے وہ تاحال سفر کرنے سے قاصر ہیں۔
وزارتِ صحت نے اس بات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا کہ تخصصاتی ہسپتالوں کے مکمل طور پر بند ہو جانے اور غزہ کینسر سینٹر کی وسیع پیمانے پر تباہی نے مریضوں کی تکالیف کو ہولناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں صحت کی سہولیات کا ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے اور خاص طور پر کیموتھراپی کی ادویات، تشخیصی آلات اور فالو اپ کی سہولیات کا شدید قحط پیدا ہو گیا ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق کینسر کے علاج کے لیے ضروری ادویات میں سے 64 فیصد کا اسٹاک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی صفر ہو گئی ہے۔ اسی طرح کینسر کی ابتدائی تشخیص اور مرض پر نظر رکھنے کے لیے بنیادی آلات جیسے ایم آر آئی (MRI) اور چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے مخصوص ایکسرے مشینیں بھی دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں کینسر کے مریض ایک بدترین طبی، سماجی، نفسیاتی اور معاشی محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان تباہ کن حالات نے ان مظلوم فلسطینیوں کو علاج اور باوقار زندگی جیسے ان کے بنیادی ترین حقوق سے بھی محروم کر دیا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر وزارتِ صحت نے تمام مقامی اور عالمی متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کی کہ کینسر کے مریضوں کو علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کی فوری اجازت دلوانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کی جائے۔ وزارت نے مطالبہ کیا کہ ضروری ادویات کی بغیر کسی رکاوٹ کے فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور غزہ کے شہری باشندوں کے لیے انسانی و قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے طبی مراکز کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
