Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی سفاکیت سے فلسطینی اسیر خالد الصیفی کی شہادت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سابق فلسطینی اسیر خالد الصیفی پیر کی شام جنوبی مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں شہید ہو گئے۔ وہ قابض اسرائیل کی جیلوں سے رہائی کے محض ایک ہفتے بعد شدید طبی بگاڑ کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔

کلب برائے اسیران فلسطین نے بتایا کہ خالد الصیفی کو پچیس جنوری سنہ 2026ء کو الرملہ جیل کی کلینک سے رہا کیا گیا تھا جبکہ اس وقت ان کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ وہ شدید پھیپھڑوں کے فائبروسس میں مبتلا تھے۔ چلنے کے قابل نہ تھے اور انہیں مسلسل اور گہری طبی نگہداشت کی ضرورت تھی۔

کلب برائے اسیران نے واضح کیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد غزہ پر مسلط جارحیت کے دوران یہ خالد الصیفی کی دوسری گرفتاری تھی۔ دونوں بار وہ قید کے بعد ہسپتال پہنچے جبکہ قابض اسرائیل کی حراست میں ان پر ڈھائے گئے مظالم کے باعث ان کی حالت نہایت نازک ہو چکی تھی۔

کلب برائے اسیران نے گذشتہ بیانات میں زور دیا کہ قابض اسرائیلی جیلوں سے رہائی جرم کے خاتمے کی علامت نہیں۔ اسیران کی شہادتیں ان کے کمزور جسم اور صحت و نفسیات میں شدید بگاڑ اس بات کے زندہ ثبوت ہیں کہ جیلوں کے اندر اسیران اور معتقلین کے خلاف نسل کشی کی پالیسی مسلسل جاری ہے۔

کلب نے بتایا کہ منظم جبر اور اذیت کے نظام نے قابض اسرائیل کی جیلوں کو مکمل تشدد گاہوں میں بدل دیا ہے جس کے اثرات رہائی پانے والے تمام اسیران پر مختلف درجوں میں نمایاں ہیں جو سنگین جسمانی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ متعدد اسیران انتہائی خطرناک اور پیچیدہ طبی حالتوں میں جیلوں سے باہر آئے جنہیں ہسپتالوں میں طویل قیام اور فوری جراحی عمل سے گزرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید تشدد کے باعث جسمانی زخموں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے متعدد واقعات بھی دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔

کلب برائے اسیران نے یہ بھی بتایا کہ بڑی تعداد میں اسیران جلدی مرض جرب میں مبتلا ہوئے جس کے باعث انہیں طبی طور پر علیحدہ رکھا گیا اور علاج کرایا گیا۔

کلب نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام حقائق اس انسانی المیے کی گہرائی کو آشکار کرتے ہیں جس سے اسیران اور ان کے خاندان دوچار ہیں۔ قابض اسرائیلی جیلوں کا نظام غیر معمولی انداز میں جسمانی اور نفسیاتی تباہی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے جس کا مقصد ارادوں کو توڑنا اور خوف مسلط کرنا ہے حتیٰ کہ اسے اسیران کے لیے سست رفتار قتل تک پہنچا دیا گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan