Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ: رفح کراسنگ کی جزوی بحالی کے باوجود 20 ہزار مریض علاج کے منتظر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اس وقت جب انسانی ضرورتیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ رفح کراسنگ کو مکمل اور مستقل طور پر کھولا جائے، اس کی حالیہ جزوی بحالی نے سوالات اور تنقید کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔

رفح کراسنگ کو غزہ پٹی کے مکینوں کے لیے حقیقی معنوں میں زندگی کی شہ رگ بننا چاہیے تھا، مگر اختیار کی گئی حکمت عملی نے واضح کر دیا کہ سیاسی اور انتظامی پیچیدگیوں نے اس اقدام کو اس کے انسانی مقصد سے محروم کر دیا ہے۔ ان اقدامات کے باعث امداد، مریضوں اور مسافروں کی رسائی محدود ہو کر رہ گئی ہے، جس سے اس بحالی کی افادیت، اس کی شرائط اور طریقہ کار پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

پیچیدہ ضابطے، سخت پابندیاں اور جزوی و محدود کھولے جانے نے رفح کراسنگ کو امید کی کھڑکی کے بجائے دباؤ کے آلے میں بدل دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں مریض، زخمی اور ضرورت مند سست روی اور بے حسی پر مبنی فیصلوں کے یرغمال بنے ہوئے ہیں، ایسے فیصلے جو بڑھتی ہوئی انسانی تباہی کی سنگینی کو کوئی وزن نہیں دیتے۔

منظم محاصرہ اور سخت سکیورٹی نگرانی

اتوار کے روز فروری کے جاری مہینے کے آغاز میں رفح کراسنگ کو تجرباتی بنیادوں پر کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ اقدام 7 مئی 2024ء کو رفح شہر پر قابض اسرائیل کے قبضے اور اس کے بعد شہریوں، بشمول انسانی ہمدردی کے کیسز کے لیے کراسنگ کی مکمل بندش کے بعد پہلی بار کیا گیا۔

اس بحالی کو کثیر سطحی سکیورٹی نگرانی سے مشروط کیا گیا ہے، جسے انسانی حقوق کے ماہرین نے نقل و حرکت اور سفر کی آزادی پر براہ راست ضرب قرار دیا ہے۔

اعلان کردہ طریقہ کار کے مطابق مسافروں کے نام روزانہ مصر کو ارسال کیے جائیں گے، جس کے بعد یہی فہرست قابض اسرائیل کے صہیونی سکیورٹی ادارے شاباک کو سکیورٹی منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ قابض اسرائیل کی فوج نگرانی کیمروں اور چہروں کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے روانہ ہونے والوں پر نظر رکھے گی۔

مسافروں کی تلاشی یورپی یونین کے مشن کے اہلکار کریں گے جبکہ فلسطینی سکیورٹی اہلکار، جو فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کام کر رہے ہیں، اس عمل میں شریک ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کی فوج نام نہاد کنٹرول بٹن کے ذریعے دروازوں کو کھولنے اور بند کرنے کا مکمل اختیار رکھے گی۔

غزہ پٹی میں داخلے کی آمدورفت بھی سخت اقدامات کے تابع ہو گی، جن میں قابض اسرائیل کی فوج کے زیر انتظام چیک پوائنٹ پر کڑی تلاشی شامل ہے۔

تازہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی 2024ء میں قابض اسرائیل کے زمینی حملے کے بعد رفح کراسنگ کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سڑک کی جزوی مرمت اور مریضوں کی نقل و حرکت کے لیے نئے راستے تیار کیے گئے ہیں، مگر اکتوبر 2023ء سے غزہ پر مسلط جنگ کے دوران قابض اسرائیل بدستور کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قابض ہے۔

واضح طریقہ کار کا فقدان

غزہ میں الشفاء ہسپتال کے میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ مریضوں اور زخمیوں کی منتقلی کے لیے واضح طریقہ کار نہ ہونے سے اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادھر غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے بھی موجودہ مرحلے میں کراسنگ کے طریقہ کار میں ابہام کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے بتایا کہ کراسنگ کھولنے کے ابتدائی مرحلے میں صرف زخمیوں، مریضوں اور مصری پاسپورٹ رکھنے والوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل قومی کمیٹی کو غزہ پٹی کے انتظام کے لیے داخل کرنے کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں توقع ہے کہ قومی کمیٹی آئندہ مرحلے میں سنگین چیلنجز اور قابض اسرائیل کی رکاوٹوں کے باوجود غزہ کے امور سنبھالنے میں کامیاب ہو گی۔

انروا نے بھی اعلان کیا ہے کہ غزہ پٹی میں طبی ضروریات موجودہ اجازت یافتہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔ ادارے نے مطالبہ کیا کہ مریضوں اور زخمیوں کی روزانہ بنیادوں پر نقل و حرکت کو تیز اور وسیع کیا جائے۔

انروا کے میڈیا مشیر عدنان ابو حسنة نے کہا کہ رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ چھوڑنے کی اجازت پانے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے، کیونکہ صحت کے نظام کے وسیع پیمانے پر انہدام کے ہوتے ہوئے موجودہ محدود تعداد کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔

تقریباً 20 ہزار فلسطینی مریض مصر میں علاج کے لیے غزہ چھوڑنے کے منتظر ہیں، جن میں 440 انتہائی تشویشناک کیسز شامل ہیں جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 4 ہزار کینسر کے مریض اور 4500 بچے ہنگامی فہرستوں میں شامل ہیں۔

وزارت صحت غزہ کے مطابق کراسنگ کی بندش کے باعث ایک ہزار سے زائد مریض جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 22 ہزار سے زیادہ زخمی اور مریض فوری طور پر بیرون ملک علاج کے محتاج ہیں۔

رفح کراسنگ کی بندش نے ہزاروں ایسے طلبہ کا تعلیمی مستقبل بھی تاریک کر دیا ہے جنہیں بیرون ملک تعلیمی وظائف مل چکے تھے، یوں ان کی زندگیوں کے قیمتی برس ضائع ہو گئے۔

نیا حصار اور سیاسی تذلیل

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے مطابق رفح کراسنگ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی صہیونی رکاوٹ یا شرط سیز فائر معاہدے اور تمام بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ رفح کراسنگ کا کھلنا غزہ پٹی کے فلسطینی عوام کا حق ہے اور اصولی طور پر اسے معاہدے کے پہلے مرحلے کے آغاز پر ہی کھول دیا جانا چاہیے تھا، مگر قابض اسرائیل نے دانستہ طور پر اس میں تاخیر کی اور اسے آخری اسیر کی لاش کی حوالگی سے جوڑ دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ فلسطینیوں کو غزہ پٹی میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے، کیونکہ یہ حق بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔

حازم قاسم نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کے طرز عمل پر کڑی نظر رکھیں تاکہ غزہ پٹی کو کسی نئے انداز میں دوبارہ حصار کا شکار نہ بنایا جائے۔

فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ البرغوثی نے کہا کہ واپس آنے والوں کی شناخت کی جانچ یا تلاشی کے لیے تیسری کراسنگ مسلط کرنا سیاسی تذلیل اور فلسطینی و مصری خودمختاری پر حملہ ہے۔

انہوں نے عرب اور عالمی سطح پر ایک بھرپور سفارتی تحریک کی اپیل کی تاکہ صہیونی پابندیوں کے بغیر تمام کراسنگز کو مکمل طور پر کھولا جا سکے اور ان 18 ہزار زخمیوں اور مریضوں کو بچایا جا سکے جو بند دروازوں کے پیچھے موت سے نبرد آزما ہیں۔

مصطفیٰ البرغوثی نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل پہلے مرحلے کی تمام مفاہمتوں کو پامال کرتے ہوئے اپنی سفاکیت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں 32 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan