غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کی جاری نسل کش جنگی کی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کی آبادی میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جنگ کے آغاز سے قبل کے اندازوں کے مقابلے میں غزہ کی آبادی تقریباً دو لاکھ چون ہزار افراد کم ہو چکی ہے جو مجموعی طور پر 10.6 فیصد بنتی ہے۔
یہ جامع تحقیق جنیوا اکیڈمی برائے بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق نے تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2025ء کے اختتام تک غزہ میں 18 ہزار 592 بچے اور تقریباً 12 ہزار 400 خواتین قابض اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن کر شہید ہو چکی تھیں۔
تحقیق میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ اکتوبر سنہ 2025ء میں سیز فائر کا معاہدہ طے پایا تھا تاہم اس کے بعد بھی سینکڑوں فلسطینی قابض اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن ریاست نے جنگ بندی کو محض ایک عارضی حربے کے طور پر استعمال کیا۔
تحقیق کے مطابق جنگ کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا بین الاقوامی قانون اس وقت مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے کیونکہ جنگی جرائم بے قابو ہو چکے ہیں اور قابض اسرائیل کو تقریباً مکمل استثنا حاصل ہے۔
غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 171 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جو انسانی تاریخ کے بدترین مظالم میں شمار ہوتا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سیز فائر معاہدے کے آغاز 10 اکتوبر سنہ 2025ء کے بعد سے قابض اسرائیلی فوج 526 فلسطینیوں کو شہید اور 1405 کو زخمی کر چکی ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ غزہ میں سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل نے اپنی جنگ کے دوران غزہ پر 200 ہزار ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد برسایا جس نے پورے علاقے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔
اس سے قبل غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش نے بتایا تھا کہ سنہ 2025ء کے دوران غزہ میں تقریباً 50 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی جو جنگ سے قبل کی شرح کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہے۔ یہ کمی قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے باعث صحت اور رہائشی حالات میں شدید بگاڑ کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح وزارت صحت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ بھی دستاویزی طور پر ثابت کیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے اثرات کے باعث سینکڑوں مریض اور بزرگ شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جو قابض دشمن کی سفاکیت کی ایک اور دل دہلا دینے والی مثال ہے۔
