Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پاکستان

حکمران عوام کے بجائے امریکہ کے خوف میں مبتلا ہیں: نائب امیر جماعت اسلامی

اسلام آباد (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ ہمارے حکمران اللہ تعالی کی بجائے امریکہ سے زیادہ خوف زدہ نظر آتے ہیں،انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی آزاد ،باوقار اور خودمختاربنانی ہوگی ،انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے اور عالمی طاقتوں کے دبا سے نکل کر حق و سچ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق یہی راستہ قوم کی عزت، خطے کے امن اور اللہ تعالی کی خوشنودی کا ضامن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد مدین العلم قرطبہ سٹی چکری میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار اسلامی ریاست ہے، یہاں کے حکمرانوں کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکامات اور عوامی مفاد کو مقدم رکھیں، نہ کہ عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے ایسے اقدامات کریں جو قومی وقار کو مجروح کرنے والے ہوں۔

اگر فیصلے امریکہ کے خوف یا دبا میں کیے جائیں گے تو اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ افغانستان میں حال ہی میں منظور ہونے والے نئے قانون کے حوالے سے جاری تنقید پر بات کرتے ہوئے پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ اس قانون کے خلاف جو شور مچایا جا رہا ہے وہ بے جا اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس قانون میں کوئی ایسی شق شامل نہیں جو شریعتِ اسلامی کے خلاف ہو۔
بلکہ یہ قانون افغان معاشرتی اقدار اور اسلامی اصولوں کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے نئے قانون میں “انسانی حقوق کی خلاف ورزی” کے نام پر ہونے والی تنقید کو دوہرے معیار کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ افغانستان کے قانون پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں، کیا وہ غزہ اور فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو نہیں دیکھ رہی وہاں نہتے شہریوں، عورتوں اور بچوں پر بدترین تشدد کیا جا رہا ہے، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں ہیں، مگر عالمی ضمیر اس پر خاموش ہے۔
پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ افغانستان کے قانون کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو پہلے یہ بتانا چاہیے کہ فلسطین میں جاری ظلم و بربریت پر ان کی آواز کیوں خاموش ہے۔ اگر واقعی انسانی حقوق کا درد ہے تو وہ ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات کے تحت منتخب خاموشی یا شور۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے افغانستان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو متحد ہونا چاہیے اور پاکستان کو کسی بیرونی طاقت، خصوصا امریکہ، کی خاطر افغانستان سے دشمنی یا کشیدگی نہیں رکھنی چاہیے۔ خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہمسایہ ممالک باہمی تعاون اور اعتماد کو فروغ دیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan