Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

رفح کراسنگ کی بحالی کا تجرباتی آغاز، شہریوں کے لیے امید کی کرن

رفح کراسنگ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان واقع معبر رفح کے ذریعے آج پیر کے روز دونوں سمتوں میں شہریوں کے سفر کی ابتدائی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاہم یہ عمل قابض اسرائیل کی سخت پابندیوں اور مکمل نگرانی کے تحت ایک مخصوص راستے کے اعلان کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔

اتوار کے روز قابض اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ مصر سے معبر رفح کے راستے غزہ آنے والوں کے لیے جانچ اور تلاشی کا ایک خصوصی راستہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

قابض فوج نے ایک بیان میں کہا کہ پیر کے روز معبر رفح کھولنے کی تیاریوں کے تحت ایک راستہ قائم کیا گیا ہے جسے ریگافیم کا نام دیا گیا ہے اور یہ راستہ ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جو مکمل طور پر قابض فوج کے کنٹرول میں ہے جبکہ اس کی نگرانی قابض اسرائیلی سکیورٹی ادارے کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آنے والوں کی شناختی دستاویزات صرف انہی فہرستوں کے مطابق جانچی جائیں گی جن کی منظوری قابض اسرائیلی سکیورٹی ادارے دیں گے اور یہ راستہ علاقے میں سکیورٹی نگرانی مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے جیسا کہ قابض فوج کا دعویٰ ہے۔

یہ پہلا موقع ہو گا کہ مئی سنہ 2024ء میں رفح پر قابض اسرائیلی یلغار کے بعد معبر کی بندش اور تباہی کے بعد دوبارہ سفر کی اجازت دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں قابض حکومت کے رابطہ کار نے کہا کہ اتوار کے روز معبر کا کھولا جانا ایک آزمائشی مرحلہ ہے جو یورپی یونین کے مشن مصر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد طے پایا ہے۔

رابطہ کار نے مزید بتایا کہ جنگ کے دوران جو فلسطینی غزہ سے باہر گئے تھے وہ مصر کے ساتھ ہم آہنگی اور قابض اسرائیلی سکیورٹی منظوری کے بعد واپس آ سکیں گے۔ اس نے واضح کیا کہ یورپی مشن مسافروں کی ابتدائی جانچ کرے گا جس کے بعد قابض فوج کے زیر کنٹرول محور پر مزید کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔

ادھر اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ کے حوالے سے قابض اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا نئی شرائط جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہوں گی۔ انہوں نے ثالثوں اور معاہدے کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ معبر رفح پر قابض اسرائیل کے طرز عمل کی کڑی نگرانی کریں۔

رفح کراسنگ کی بحالی سے غزہ سے زخمیوں اور مریضوں کو بیرون ملک علاج کے لیے منتقل کرنے کا امکان پیدا ہو گا۔

اس حوالے سے انروا کے میڈیا مشیر عدنان ابو حسنہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت معبر رفح کے ذریعے مریضوں کی منتقلی کے عمل کی نگرانی کرے گا تاکہ انہیں بیرون ملک علاج کی سہولت مل سکے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مریضوں کی بڑی تعداد کا نکلنا ناگزیر ہے کیونکہ غزہ کی پٹی میں موجود صحت کے مراکز شدید تباہی کے باعث خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

تاہم رفح بارڈر کے دوبارہ کھلنے کے تناظر میں غزہ کے مریضوں اور زخمیوں کی فوری طبی ضرورت اور قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کی گئی سخت سکیورٹی پابندیوں کے درمیان ایک گہرا خلا نمایاں ہو رہا ہے۔

قابض اسرائیلی اندازوں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں روزانہ صرف تقریباً 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی جبکہ غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً 22 ہزار مریض اور زخمی ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے اور ان کے پاس مکمل طبی حوالہ جات موجود ہیں۔

اس صورتحال میں ان تمام مریضوں اور زخمیوں کے انخلا کے لیے تقریباً 147 دن یعنی قریباً پانچ ماہ درکار ہوں گے۔

دوسری جانب رفح کراسنگ کی بحالی کا عمل زیادہ تر افراد کی نقل و حرکت تک محدود رکھا گیا ہے جبکہ غزہ کے باسیوں کی ہنگامی ضروریات کی ترسیل کے حوالے سے کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی حالانکہ اندازوں کے مطابق غزہ کو روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرکوں کی اشد ضرورت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan