غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی دشمن ریاست کی جانب سے سیز فائر کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، جہاں آج پیر کے روز مغربی خان یونس میں قابض فوج کی بمباری کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین فلسطینی شہری شہید ہو گئے، جبکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا یہ سلسلہ مسلسل 114ویں روز بھی نہ رک سکا۔
طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چالیس سالہ احمد ایمن محمود خمیس مواصی خان یونس میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعددم توڑ گئے۔ وہ آج صبح سے اب تک اسی علاقے میں شہید ہونے والے دوسرے فلسطینی ہیں، جو قابض دشمن کی سفاکیت کا واضح ثبوت ہے۔
اس سے قبل ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی تھی کہ شمالی غزہ میں جبالیہ البلدہ کے علاقے الجرن پر قابض اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہری رمضان خیر محمد دردونہ شہید ہو گئے۔
ابتدائی اوقات میں ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ تین سالہ معصوم بچے ایاد احمد نعیم الربایعہ کی شہادت کی اطلاع موصول ہوئی، جسے خان یونس کے جنوبی علاقے مواصی کے علاقہ الاقلیمی میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر قابض اسرائیلی جنگی کشتیوں کی بمباری کے بعد ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اتوار کے روز بھی قابض اسرائیلی فضائی حملوں میں دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ قابض ریاست دانستہ طور پر سیز فائر کو پامال کر رہی ہے اور فلسطینی عوام کے خلاف اپنی نسل کش پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک قابض اسرائیلی فوج کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 527 فلسطینی شہید اور 1443 زخمی ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی فلسطینی عوام کے خلاف نسل کش جنگ کے بعد سے اب تک قابض اسرائیلی فوج 71,795 سے زائد فلسطینی شہریوں کو شہید اور 171,551 سے زیادہ کو زخمی کر چکی ہے، جبکہ غزہ کی پٹی میں شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وسیع تباہی کے بعد غزہ کی تعمیر نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
