قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصر آج پیر کے روز سے غزہ کی پٹی سے فلسطینی مریضوں کو جنوبی غزہ میں واقع رفح کراسنگ کے ذریعے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قبول کرنا شروع کررہا ہے۔
قاہرہ نیوز چینل نے اتوار کے روز بتایا کہ کراسنگ کے فلسطینی حصے کو تجرباتی بنیادوں پر فعال کر دیا گیا ہے جبکہ باضابطہ طور پر پیر کے دن آپریشن شروع ہو گا۔ اس مقصد کے لیے موبائل آئی سی یو کمروں اور ایسی ایمبولینس گاڑیوں کو تیار کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے خدمات انجام دیں گی۔
غزہ میں مجمع الشفاء طبی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے خبردار کیا ہے کہ مریضوں اور زخمیوں کی منتقلی کے لیے واضح اور مؤثر نظام نہ ہونے کی صورت میں اموات کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 20 ہزار مریض اور زخمی فوری علاج کے منتظر ہیں جن میں 4 ہزار 500 بچے شامل ہیں۔
ڈاکٹر ابو سلمیہ کے مطابق لگ بھگ 20 ہزار مریض غزہ سے باہر علاج کے لیے منتقلی کے منتظر ہیں جن میں 440 نہایت تشویشناک حالت کے کیسز شامل ہیں جبکہ قریب 4 ہزار کینسر کے مریض اور بچے ہنگامی فہرستوں میں درج ہیں۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیل کی حکومت کے رابطہ کار برائے سرکاری امور نے اعلان کیا کہ رفح کراسنگ کو اتوار کے روز یورپی مشن اور مصر کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کھولا گیا ہے۔ یہ اقدام فلسطینی حصے کی ڈیڑھ سال سے زائد عرصے پر محیط تقریباً مکمل بندش کے بعد سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے واضح کیا ہے کہ رفح کراسنگ کا کھولا جانا غزہ کی پٹی کے باشندوں کا مسلمہ حق ہے۔ حماس نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی رکاوٹیں یا شرائط سیز فائر معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی شمار ہوں گی۔
تازہ تصاویر میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مئی 2024ء میں قابض اسرائیل کی زمینی دراندازی کے بعد رفح کراسنگ کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ سڑک کی جزوی مرمت اور مریضوں کی آمد و رفت میں آسانی کے لیے نئے راستے تیار کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجود قابض اسرائیل اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری غزہ کے خلاف جنگ کے دوران کراسنگ کے فلسطینی حصے پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے جنوری سنہ 2025ء میں سیز فائر کے دوران رفح کراسنگ کو غیر معمولی طور پر مریضوں اور زخمیوں کی آمد و رفت کے لیے کھولا تھا تاہم مارچ میں دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع ہوتے ہی اسے ایک بار پھر بند کر دیا گیا۔
