Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں ادویات کی خطرناک قلت، مریض بنیادی علاج سے محروم

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں ادویات کی شدید قلت نے انسانی المیے کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں دائمی امراض میں مبتلا مریض علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور زندگیاں ہر لمحہ خطرے کی دہلیز پر کھڑی ہیں۔

خان یونس شہر میں رہنے والے 44 سالہ نوجوان معتز عزیز نے مسلسل نو گھنٹے مختلف فارمیسیوں اور طبی مراکز کے چکر لگائے، اس امید میں کہ اسے ایسی ایک گولی مل جائے جو اس کے دائمی مرض کے درد میں کچھ کمی لا سکے۔ مگر جب ہر در بند پایا تو بالآخر صحت بگڑنے پر اسے الامل ہسپتال جانا پڑا، جہاں ڈاکٹروں نے انتہائی نگہداشت وارڈ کے اندر سے بڑی مشکل سے اس کے لیے دوا فراہم کی۔

یہ منظر اب کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ غزہ کی پٹی میں ہزاروں دائمی مریضوں کی روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ بنیادی ادویات کی شدید قلت قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کا نتیجہ ہے، جسے طبی ماہرین ایک خاموش جنگ قرار دیتے ہیں جو براہ راست مریضوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ان کی زندگیوں کو ایسے مہلک پیچیدگیوں کی طرف دھکیل رہی ہے جو موت تک جا سکتی ہیں۔

معتز عزیز عضلاتی کمزوری کے مرض میں مبتلا ہیں، یہ ایک دائمی بیماری ہے جو عضلات کو کمزور اور رفتہ رفتہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ دوا کے بار بار تعطل نے انہیں مستقل خوف اور بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ روزانہ گھنٹوں دوا کی تلاش کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ علاج میں کسی بھی قسم کا وقفہ کسی بھی لمحے ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اسی طرح 56 سالہ مریض علاء الخطیب جو بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں، شدید قلت کا شکوہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر ماہ علاج حاصل کرنے کے لیے انہیں ایک جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ جب کلینکس جاتے ہیں تو دوا دستیاب نہیں ہوتی۔ وہ تلخ انداز میں کہتے ہیں کہ بازار چاکلیٹ اور کوکا کولا سے بھرے ہوئے ہیں مگر ایک گولی دوا نہیں ملتی۔

علاج کے منصوبے میں تبدیلی

اس تناظر میں فارماسسٹ ڈاکٹر خالد عودہ نے وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی میں دائمی امراض کی ادویات کی قلت اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے، بالخصوص دل شوگر بلڈ پریشر اور تھائرائیڈ کی ادویات نایاب ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طبی عملہ بعض اوقات دستیاب متبادل کے مطابق علاج کا منصوبہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوتا ہے، مگر بحران اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب مریض کو معلوم ہوتا ہے کہ متبادل ادویات بھی دستیاب نہیں۔

عودہ کے مطابق تھائرائیڈ کی دوا گذشتہ تقریباً تین ماہ سے مکمل طور پر ناپید ہے اور یہ صورتحال ہسپتالوں کے اندر بھی برقرار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کمی سے مریضوں کی زندگیاں براہ راست خطرے میں ہیں اور ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جن پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل بلڈ پریشر کی بعض مخصوص ادویات کو داخلے کی اجازت دیتا ہے جبکہ دیگر اقسام پر پابندی عائد ہے۔ یہ ایک منظم اور امتیازی پالیسی ہے جو مریضوں پر اجتماعی سزا مسلط کرتی ہے اور طبی عملے کو پیچیدہ طبی چیلنجز سے دوچار کر دیتی ہے، کیونکہ علاج کی تبدیلی کے لیے مریض کی مکمل ازسرنو جانچ، نئے ٹیسٹ اور پورے علاجی پروٹوکول کا دوبارہ آغاز کرنا پڑتا ہے۔

عودہ نے خبردار کیا کہ اگر ادویات کی قلت برقرار رہی تو بلڈ پریشر کے مریض فالج اور دل کے دورے، دل کے پٹھوں کے پھیلاؤ اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی جیسے مہلک خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں، جبکہ شوگر کے مریضوں میں گردوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

خطرناک سطح

ادھر غزہ میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے کہا ہے کہ دائمی امراض کی ادویات کی شدید قلت خطرناک اور غیر معمولی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کا صحت کا نظام مسلسل جارحیت، گزرگاہوں کی بندش اور ادویات اور طبی سامان کے داخلے پر کنٹرول کے باعث تباہ کن حالات میں کام کر رہا ہے۔

ڈاکٹر البرش نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو میں بتایا کہ وزارت صحت دستیاب ذخیرے کو انتہائی سخت طبی ترجیحات کے تحت منظم اور تقسیم کرنے کی دوگنی کوششیں کر رہی ہے، مگر زندگی بچانے والی ادویات کے داخلے پر مسلسل پابندی ہزاروں مریضوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے عالمی اور انسانی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں نبھائیں اور بلا تاخیر ادویات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدام کریں۔

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ کا صحت کا نظام شدید تھکن اور وسائل کی سنگین کمی کا شکار ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق دائمی امراض کی ادویات میں کمی کی شرح تقریباً 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو غزہ کی پٹی میں ایک خاموش مگر بڑھتی ہوئی صحت کی تباہی کا عندیہ دے رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan