Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

رمضان کے مہینے میں القدس پر صہیونی سکیورٹی شکنجہ کی سازش

مقبوضہِ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، جب دنیا بھر کے مسلمان اس مقدس مہینے کو اطاعت، عبادت اور خوشیوں کے موسم کے طور پر منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں، عین اسی وقت مقبوضہ بیت المقدس میں غاصب صہیونی ریاست کے فوجی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے باعث القدس گورنری کو ایک کھلی سکیورٹی چھاؤنی میں تبدیل کیے جانے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

فوج کی بھاری نفری کی تعیناتی، رکاوٹوں اور ناکوں کی سختی اور فلسطینی و نمازیوں پر زمین تنگ کرنے کے یہ مناظر محض عارضی سکیورٹی اقدامات نہیں ہیں۔ القدس کے محققین اور مقامی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد القدس کو عسکری رنگ دے کر زمین پر نئے حقائق مسلط کرنا اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے جاری سلسلے کو مزید وسعت دینا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم قابض اسرائیل کی اس جارحانہ مہم کے خدوخال، اس کے سیاسی و سکیورٹی پہلوؤں اور القدس کے باسیوں کی زندگیوں اور ماہِ رمضان پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

ایک کھلی سکیورٹی چھاؤنی

انسدادِ یہود کاری اتھارٹی کے سربراہ،ناصر الہدمی نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ چند دنوں کے دوران مقبوضہ القدس میں غیر معمولی فوجی اور سکیورٹی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدامات شہر کو ایک کھلی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کی اس منظم پالیسی کا حصہ ہیں جو ماہِ رمضان المبارک کی تیاریوں کے نام پر کی جا رہی ہے۔

ناصر الہدمی نے مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان اقدامات میں القدس کے محلوں، بالخصوص مسجدِ اقصیٰ اور پرانے شہر کے گرد و نواح میں قابض اسرائیل کی خصوصی فورسز اور بارڈر پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ عارضی اور مستقل فوجی ناکے لگا دیے گئے ہیں جو فلسطینیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور انہیں اپنی عبادت گاہوں تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل اس پالیسی کے ذریعے شہر میں نئی سکیورٹی صورتحال مسلط کرنا چاہتا ہے، تاکہ ماہِ رمضان کو جو کہ عبادت اور سماجی رابطوں کا مہینہ ہے جبر اور کشیدگی کے موسم میں بدل دیا جائے۔ یہ فلسطینیوں کے عزم کو توڑنے اور مسجدِ اقصیٰ میں کسی بھی مذہبی یا عوامی اجتماع کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی ناپاک کوشش ہے۔

ناصر الہدمی کا ماننا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ القدس پر مکمل تسلط حاصل کرنے اور اسے اس کے مذہبی و انسانی جوہر سے محروم کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ سکیورٹی کے کھوکھلے بہانوں تلے نمازیوں کو جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے اور مسجدِ اقصیٰ میں داخلے کے لیے عمر اور وقت کی سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ القدس کو فوجی چھاؤنی بنانا مسجدِ اقصیٰ پر آباد کاروں کے روزانہ کے اشتعال انگیز دھاووں سے جڑا ہوا ہے، جنہیں قابض اسرائیلی فوج کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے مجرمانہ بین الاقوامی خاموشی کے سائے میں ہو رہا ہے جو غاصب دشمن ریاست کو بغیر کسی باز پرس کے اپنی سفاکیت جاری رکھنے کی شہ دے رہا ہے۔

ناصر الہدمی نے متنبہ کیا کہ ان اقدامات کا تسلسل شہر میں حالات کو دھماکہ خیز بنا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل اپنے اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی ردعمل کا مکمل ذمہ دار ہوگا، بالخصوص ایک ایسے مہینے میں جس کی فلسطینی عوام کے نزدیک خاص مذہبی اور قومی اہمیت ہے۔

ناصر الہدمی نے القدس اور اندرونِ فلسطین کے بیٹوں سے اپیل کی کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کی طرف رختِ سفر باندھیں، وہاں کثیر تعداد میں موجود رہیں اور قابض اسرائیل کی جانب سے سکیورٹی کے نام پر مسلط کیے جانے والے اس نئے جبر کا پرامن طور پر مقابلہ کریں، جس کا مقصد مسلمانوں کا اپنے قبلہ اول سے تعلق توڑنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور القدس کو فوجی چھاؤنی بنانے کے عمل کو روکنے کے لیے فوری حرکت میں آئیں، تاکہ ماہِ رمضان کے تقدس اور شہر کے باسیوں پر ہونے والی اس سفاکیت کا خاتمہ ہو سکے۔

ایک سوچا سمجھا منصوبہ

دوسری جانب، القدس کے امور کے محقق اسماعیل مسلمانی کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل القدس کو عسکری رنگ دینے اور اسے ایک بند فوجی زون میں تبدیل کرنے کے لیے ایک سوچے سمجھے سکیورٹی پلان پر عمل پیرا ہے۔ رمضان کی تیاریوں کے لبادے میں یہ سب کچھ شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے نظریے کے تحت کیا جا رہا ہے۔

اسماعیل مسلمانی نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مسجدِ اقصیٰ اور پرانے شہر کے گرد و نواح میں قابض افواج کے گشت، جدید ترین نگرانی کے آلات کے استعمال اور ناکوں پر سخت پابندیوں کی صورت میں نمایاں ہے۔ یہ اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل رمضان کے مہینے کو خالصتاً ایک عسکری ذہنیت کے ساتھ مینیج کرنا چاہتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ قابض اسرائیل القدس کو ایک انسانی شہر کے بجائے ایک سکیورٹی اکھاڑے کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس میں شہر کے مذہبی اور انسانی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے تاکہ فلسطینیوں کو پیشگی خوف اور جبر کے ذریعے مغلوب کیا جا سکے۔

اسماعیل مسلمانی نے نشاندہی کی کہ القدس کو چھاؤنی بنانا دراصل “گریٹر اسرائیل” اور مکمل یہود کاری کے اس منصوبے سے الگ نہیں ہے، جس کا مقصد نقل و حرکت پر کنٹرول، مستقل فوجی موجودگی اور غیر اعلانیہ ہنگامی قوانین کے ذریعے شہر کے عرب اور اسلامی تشخص کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا ایک مقصد انتہا پسند آباد کاروں کو مسجدِ اقصیٰ پر دھاووں کے لیے تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اشتعال انگیز مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سکیورٹی فراہم کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف مسلمان نمازیوں کے لیے زمین تنگ کر کے انہیں آزادیِ عبادت سے محروم کیا جا رہا ہے۔

اسماعیل مسلمانی نے خبردار کیا کہ یہ پالیسیاں عوامی غم و غصے میں مزید اضافے کا باعث بنیں گی، خاص طور پر جب مظالم کی داستانیں طویل ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قابض اسرائیل عبادت کی آزادی کا احترام کرنے کے بجائے “پیشگی جبر” پر مبنی ایک نئی سکیورٹی مساوات مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگرچہ القدس میں ہر سال رمضان کے قریب سکیورٹی تناؤ بڑھ جاتا ہے، لیکن اس سال کی کارروائیاں زیادہ خطرناک اور منظم ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ دشمن شہر پر طویل مدتی قبضے کے لیے نئے ہتھکنڈوں کی آزمائش کر رہا ہے۔

اسماعیل مسلمانی نے مطالبہ کیا کہ ان پالیسیوں کو عالمی اور میڈیا کی سطح پر بے نقاب کیا جائے، مظالم کی دستاویز بندی کی جائے اور القدس و اس کے مقدسات کے دفاع کے لیے عوامی اور قانونی جدوجہد کو تیز کیا جائے۔

بے دخلی، خوف و ہراس اور تسلط کی ان تمام مہمات کے باوجود، فلسطینی عوام مسجدِ اقصیٰ کو آباد رکھنے پر بضد ہیں۔ وہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے قبلہ اول کی شناخت تبدیل کرنے کی ہر سازش اور یہود کاری کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan