بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان کے ضلع صور میں واقع قصبے صدیقین میں جمعہ کے روز قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے ایک گھر کے گرد و نواح کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
قابض اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ایک کارکن کو نشانہ بنایا ہے جبکہ لبنانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس حملے کا نشانہ بننے والی شخصیت قصبہ رمادیہ سے تعلق رکھنے والے شیخ کامل ناصر الدین ہیں جو ایک بزرگ رہنما ہیں۔
یہ بزدلانہ حملہ قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر سنہ 2024ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے نتیجے میں قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔
اسی حوالے سے لبنانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سنہ 2025ء کے آخری تین مہینوں کے دوران اسرائیلی جانب سے کی جانے والی 2036 خلاف ورزیوں کو دستاویزات کی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔ لبنانی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیل کو نومبر سنہ 2024ء میں جاری ہونے والی بین الاقوامی قرار داد 1701 پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے جس کے تحت جنگ بندی کا حکم دیا گیا تھا۔
